قانونی تبصرہ کا سوال 12
ہماری دستور کے مادہ 5 سے 11 میں شہرت نفی کا تعریف ہے۔ دستور کا مادہ 5 کہتا ہے کہ اس دستور کے آغاز کے وقت، ہر شخص جو ہندوستان کے خطے میں رہائش گزار تھا اور جو ہندوستان میں پیدا ہوا تھا یا اس کے ایک باپ یا ماں ہندوستان میں پیدا ہوئی تھی یا جو اس دستور کے آغاز سے قبل نہایت روزمرہ طور پر ہندوستان کے خطے میں نہایت پانچ سال سے زیادہ رہائش گزار تھا، ہر ایسا شخص ہندوستان کے شہری ہوگا۔ یہی معنی ہے کہ کوئی بھی شخص جو ہندوستان میں پیدا ہوا یا جس کے کوئی بھی باپ یا ماں ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں وہ پیدائش سے ہندوستان کے شہری ہیں اور اس کی شہرت نفی کے لیے کوئی دوسرا دستاویز نہیں مگر ہندوستان کا دستور جو ملک کا برترین قانون ہے۔ لہٰذا کسی بھی شخص کا ڈر جو ہندوستان میں پیدا ہوا یا جس کے کوئی بھی باپ یا ماں ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں کہ وہ کسی فعل یا قواعد کے ذریعے اپنی شہرت نفی کر دی جا سکتی ہے، غیر معنوی اور روایتی ہے اور کسی بھی مغروری سے پرہیز ہے کیونکہ کوئی پارلیمانی یا کسی بھی ریاست کا فعل یا اس کے تحت بنائے گئے کوئی قواعد ہندوستان کے دستور کو تجاوز نہیں کر سکتے۔
دستور کا مادہ 6 پاکستان سے ہندوستان میں منتقل ہونے والے لوگوں کو شہرت نفی کرنے کا حکم دیتا ہے جو مادہ 5 کی شرائط پوری نہیں کرتے۔ مادہ 6 کہتا ہے کہ کوئی بھی ایسا شخص جو پاکستان سے ہندوستان میں منتقل ہوا، جس کے یا اس کے باپ یا ماں یا اس کے باپ یا ماں کے باپ یا ماں کے پیدائش ہندوستان میں تھے جو 1935 کے ہندوستان کے حکومت کا قانون 1935 میں تعریف کیے گئے تھے اور (i) اگر وہ 19 چارتے 1948 کے قبل منتقل ہوا تھا، تو اس نے اپنی منتقلی کے تاریخ سے ہندوستان میں نہایت روزمرہ طور پر رہائش گزاری کی تھی، یا اگر ایسا شخص 19 چارتے 1948 کے بعد ہندوستان میں منتقل ہوا تھا اور وہ اس دستور کے آغاز سے پہلے اپنے ذریعے کی درخواست کے ذریعے مرکزی حکومت کے ذریعے مقررہ افسر کے ذریعے ہندوستان کے شہری کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا۔ تاہم ایسی درخواست کے لیے یہ یہی واحد شرط ہے کہ ایسی درخواست کرنے سے پہلے اس شخص کو ہندوستان میں کم از کم شہرت نفی کی درخواست کرنے سے پہلے ہی سات ماہ سے زیادہ رہائش گزاری کی ہوئی ہو۔
مادہ 7 کہتا ہے کہ مادہ 5 اور 6 میں کوئی بھی شے بھی نہ صرف یہی کہ 1 مارچ 1947 کے بعد پاکستان میں منتقل ہونے والے شخص ہندوستان کے شہری نہیں سمجھا جائے گا، بلکہ یہ بھی کہ اگر ایسا شخص پاکستان میں منتقل ہونے کے بعد کسی قانون کے ذریعے یا اس کے حکومت کے ذریعے جانے والی ریسیٹلمنٹ یا مستقل عائدی کے لیے پرسکتھ کے ذریعے ہندوستان کو واپس آ گیا ہو تو وہ 19 چارتے 1948 کے بعد مادہ 6(ب) کے تحت ہندوستان میں منتقل ہونے والا سمجھا جائے گا۔
ہندوستان سے باہر رہائش گزاری کرنے والے لوگوں کی شہرت نفی کے حقوق کو دوبارہ اور پہچاننے کے ارادے کے ساتھ، ہمارا دستور مادہ 8 کے تحت کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص یا جس کے کوئی بھی باپ یا ماں یا اس کے کوئی بھی باپ یا ماں کے پیدائش جدید ہندوستان میں تھے اور جو کسی بھی ملک کے باہر ہندوستان میں رہائش گزاری کر رہا ہے، تو وہ ہندوستان کے شہری سمجھا جائے گا، اگر وہ اس ملک میں ہندوستان کے دبیانٹ یا کانسولر پرسنل کے ذریعے رجسٹر کیا جائے۔
شخص اپنی ہندوستان کی شہرت نفی سے پرہیز نہیں کر سکتا، مگر
اختیارات:
A) وہ یا اس کے باپ یا ماں ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے
B) وہ ہندوستان میں پیدا ہوا تھا مگر اس کے بارے میں اس کے باپ یا ماں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں
C) وہ ہندوستان میں پیدا ہوا تھا جس کی تاریخ سے اس دستور کے آغاز کی تاریخ کی طرف سے شمار کیا جاتا ہے
D) وہ 1945 میں لاہور میں پیدا ہوا تھا
جواب:
درست جواب: د
حل:
یہی معنی ہے کہ کوئی بھی شخص جو ہندوستان میں پیدا ہوا یا جس کے کوئی بھی باپ یا ماں ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں وہ پیدائش سے ہندوستان کے شہری ہیں اور اس کی شہرت نفی کے لیے کوئی دوسرا دستاویز نہیں مگر ہندوستان کا دستور جو ملک کا برترین قانون ہے۔ لہٰذا کسی بھی شخص کا ڈر جو ہندوستان میں پیدا ہوا یا جس کے کوئی بھی باپ یا ماں ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں کہ وہ کسی فعل یا قواعد کے ذریعے اپنی شہرت نفی کر دی جا سکتی ہے، غیر معنوی اور روایتی ہے اور کسی بھی مغروری سے پرہیز ہے کیونکہ کوئی پارلیمانی یا کسی بھی ریاست کا فعل یا اس کے تحت بنائے گئے کوئی قواعد ہندوستان کے دستور کو تجاوز نہیں کر سکتے۔