شمالی ڈویژنز

شمالی ریلوے – ایک نظر میں ڈویژنز

شمالی ریلوے (این آر) روٹ کلومیٹر اور عملے کی طاقت کے لحاظ سے انڈین ریلوے کا قدیم ترین اور سب سے بڑا زون ہے۔
صدر دفتر: بروڈا ہاؤس، نئی دہلی
تشکیل کی تاریخ: 14 اپریل 1952 (ایسٹ انڈین ریلوے اور اودھ و روہیل کھنڈ ریلوے کی تنظیم نو)
موجودہ ڈویژنز: دہلی، امبالہ، فیروزپور، لکھنؤ، مرادآباد


1. تکنیکی اور عملی پروفائل

پیرامیٹردہلیامبالہفیروزپورلکھنؤمرادآباد
روٹ کلومیٹر (2023)1 0861 2481 4901 0261 359
ٹریک کلومیٹر (بشمول وائی ڈی اور سائیڈنگ)2 4102 8603 2202 1902 970
بجلی کاری فیصد100 %100 %92 %100 %96 %
روزانہ ٹرین ہینڈلنگ اوسط510310280220350
اہم لوکو شیڈتغلق آباد (TKD)لدھیانہ (LDH)لدھیانہ (LDH)لکھنؤ (LJN)مرادآباد (MB)
کوچنگ ڈپوحضرت نظام الدین، نئی دہلی، آنند وہارامبالہ کینٹفیروزپور کینٹلکھنؤ جنکشن، گومتی نگرمرادآباد، بریلی

2. اہم بنیادی ڈھانچہ اور تفصیلات

دہلی ڈویژن

  • یارڈ ری ماڈلنگ: نئی دہلی–شیواجی برج چوتھی لائن 2022 میں چالو۔
  • اسٹیشن زمرے:
    – NSG-1: نئی دہلی، حضرت نظام الدین، آنند وہار ٹرمینل
    – SG-2: دہلی جنکشن، دہلی سرائے روہیلہ
  • خودکار سگنلنگ: 165 آر کے ایم (روٹ کلومیٹر) 60 کلوگرام 90 یو ٹی ایس ریلز اور ایس ایس ڈی سوئچز کے ساتھ۔
  • او ایچ ای: 25 کلو وولٹ، 50 ہرٹز، کیٹینری 1.45 میٹر ونڈ ریگولیشن، ڈی ایف سی سی ہم آہنگی کے لیے 7.57 میٹر کم از کم اونچائی۔

امبالہ ڈویژن

  • دنیا کی طویل ترین بجلی سے چلنے والی سرنگ (روپال–کالکا، 3.24 کلومیٹر) کالکا–شملہ وراثتی حصے پر (غیر بجلی شدہ)۔
  • ٹریک ڈھانچہ: 52 کلوگرام/60 کلوگرام مین لائن پر، 90 یو ٹی ایس ریلز، ایل ڈبلیو آر 1 میں 12 اور 1 میں 8½ سوئچز۔
  • لیول کراسنگ: 330 (2023)، 92 فیصد لفٹنگ بیریئرز اور انٹرلاکنگ سے لیس۔

فیروزپور ڈویژن

  • بارڈر ڈویژن: 183 کلومیٹر پاکستان کو چھوتی ہے (واہگہ-اٹاری)۔
  • مال بردار بوجھ: 2022–23 میں 52 ایم ٹی (بنیادی طور پر غذائی اجناس، کھاد، پی او ایل)۔
  • گتی شکتی مال بردار ٹرمینل: 5 (ابوہر، فاضلکا، جالندھر، لدھیانہ، کھنہ)۔

لکھنؤ ڈویژن

  • ڈبلنگ اور نئی لائن:
    – لکھنؤ–ایودھیا–درشن نگر تیسری لائن (2021)
    – گومتی نگر–ملہور چوتھی لائن (2023)
  • میمو کار شیڈ: گومتی نگر (بھارت کی پہلی 12-کار میمو دیکھ بھال سہولت)۔

مرادآباد ڈویژن

  • بجلی شدہ مال بردار کوریڈور: ای ڈی ایف سی (کھرجہ–بھاؤپور) 345 کلومیٹر ڈویژن کے اندر۔
  • ویگن مرمت ڈپو: مغل سرائے، بریلی، مرادآباد۔
  • راج بھاشا نفاذ: 100 فیصد ہندی مراسلت حاصل کرنے والا پہلا ڈویژن (2020)۔

3. تاریخی سنگ میل

سالواقعہ
1854دہلی سے ریواڑی (ایس سی این بی روٹ) تک پہلی مسافر ٹرین – 1 دسمبر۔
1864دہلی جنکشن عمارت مکمل (لٹینز سے متاثرہ سرخ پتھر)۔
1866امبالہ کینٹ–کالکا لائن برطانوی گرمائی دارالحکومت کے لیے کھولی گئی۔
1870فیروزپور–لاہور (اب پاکستان میں) کے ذریعے میل شروع ہوئی۔
1926مرادآباد ورکشاپ کوچ اور ویگن اوورہال کے لیے قائم کیا گیا۔
1952شمالی ریلوے تشکیل دیا گیا؛ دہلی، امبالہ، فیروزپور اصل ڈویژنز بنے۔
1953لکھنؤ ڈویژن او اینڈ آر آر سیکشن سے تشکیل دیا گیا۔
1988مرادآباد ڈویژن اتراکھنڈ اور مغربی یو پی کی خدمت کے لیے بنایا گیا۔
1997آنند وہار ٹرمینل نئی دہلی کی بھیڑ کم کرنے کے لیے منظور کیا گیا۔
2005دہلی–آگرہ–دہلی مین لائن پہلی 150 کلومیٹر فی گھنٹہ شتابدی ڈبلیو اے پی-5 کے ساتھ حاصل کرنے والی۔
2018دہلی ڈویژن پہلا 100 فیصد ایل ای ڈی اسٹیشن لائٹنگ حاصل کرنے والا۔
2020امبالہ ڈویژن میں ایل پی جی-آر ای ٹی (ریلوے ماحول دوست ٹرین) کے تجربات۔
2023فیروزپور ڈویژن نے ای ٹی سی ایس-ایل1 (کاوچ) 312 آر کے ایم امرتسر–جالندھر–لدھیانہ سیکشن پر مکمل کیا۔

4. موجودہ حیثیت اور حالیہ اپ ڈیٹس (2023-24)

  • کاوچ (مقامی اے ٹی پی): این آر پر 1 200 آر کے ایم منظور؛ دہلی–آگرہ اور امبالہ–لدھیانہ پر پائلٹ۔
  • امرت بھارت (پش-پل): نئی دہلی–ایودھیا اور آنند وہار–مالدا 30 دسمبر 2023 کو افتتاح۔
  • وندے بھارت (2.0): دہلی–امبالہ–چندی گڑھ اور دہلی–دہرادون وی بی سروسز (16 ٹرپس/ہفتہ)۔
  • اسٹیشن ری ڈویلپمنٹ (امرت اسٹیشنز): این آر کے تحت 54 اسٹیشن – دہلی ڈویژن میں اکیلے 14 (عزت نگر، سہارنپور، علی گڑھ، وغیرہ)۔
  • مال بردار کوریڈور:
    – ای ڈی ایف سی (ایسٹرن ڈی ایف سی) آپریشنل مغل سرائے–کھرجہ–دادر (مرادآباد ڈویژن)۔
    – ڈبلیو ڈی ایف سی (ویسٹرن ڈی ایف سی) دہلی ڈویژن میں دادر اور تغلق آباد میں داخل ہوتا ہے۔
  • سبز اقدامات: 1 028 میگا واٹ سولر چھتیں منظور؛ 40 فیصد پہلے ہی شکور بستی، لکھنؤ جنکشن، مرادآباد میں نصب۔
  • جاری نئی لائنیں:
    – چندی گڑھ–سہنیوال–لدھیانہ تیسری لائن (لاگت ₹2 018 کروڑ، 97 کلومیٹر)۔
    – رشی کیش–کرن پرایاگ (125 کلومیٹر، چار دھام پروجیکٹ) – 65 فیصد مکمل۔
  • بجٹ 2024-25 مختص رقم: شمالی ریلوے کے لیے ₹18 900 کروڑ (تمام زونز میں سب سے زیادہ)۔

5. امتحان کے لیے فوری حقائق

  • این آر میں طویل ترین پلیٹ فارم: گورکھپور (اب این ای آر کے تحت ہے لیکن 1952 تک این آر کا حصہ تھا)۔
  • بلند ترین ریل پل: چناب (این آر میں نہیں) – این آر کا بلند ترین چکی (66 میٹر) پٹھانکوٹ–جوگندر نگر پر ہے۔
  • شمالی ریلوے نیٹ ورک: 7 114 روٹ کلومیٹر (2023) – آئی آر کا 12 فیصد۔
  • عملے کی طاقت: 1.03 لاکھ (زونز میں سب سے زیادہ)۔
  • مسافر آمدنی کا حصہ: آئی آر کا 28 فیصد (دہلی ہب کی وجہ سے)۔
  • یونیسکو ورثہ: کالکا–شملہ اور چھترپتی شیواجی ٹرمینس (ممبئی) – صرف کالکا–شملہ این آر میں واقع ہے۔