مغربی زونز

مغربی زونز – ریلوے جی کے کیپسول

| زون ہیڈکوارٹر | ممبئی (چرچ گیٹ) | | تشکیل | 5 نومبر 1951 (بی بی اینڈ سی آئی ریلوے کے دوبارہ تنظیم کے بعد) | | پیشرو | بمبئی، بارودا اینڈ سینٹرل انڈیا ریلوے (BB&CI) | | کل روٹ کلومیٹر | 4,680 کلومیٹر (2023) | | ڈویژنز | 6 – ممبئی ڈبلیو آر، ممبئی سی آر، وڈودرا، احمد آباد، راجکوٹ، بھاونگر* | | اہم ورکشاپس | دہود، لوئر پیرل، سابرمتی، بھاونگر | | برقی کاری | 100 فیصد (2022) – مکمل برقی کاری کرنے والا پہلا زون | | مشہور ٹرینیں | اگست کرانتی راجدھانی، ممبئی–دہلی درونٹو، گجرات سمپارک کرانتی، ڈبل ڈیکر، وندے بھارت (ممبئی–گاندھی نگر) |

* بھاونگر ڈویژن 2022 میں راجکوٹ ڈویژن کو تقسیم کر کے بنایا گیا تھا۔


1. تکنیکی جائزہ

پیرامیٹرقدر
ٹریکصرف براڈ گیج (1676 ملی میٹر)
زیادہ سے زیادہ رفتار160 کلومیٹر فی گھنٹہ (ممبئی–دہلی راجدھانی روٹ)
خودکار سگنلنگممبئی–وڈودرا–احمد آباد (2021)
کاوچ (ERTMS-L1)ممبئی–احمد آباد (508 کلومیٹر) – میک ان انڈیا ETCS کے لیے ٹرائل کوریڈور
مال بردار کوریڈورڈبلیو ڈی ایف سی (ریواری–پالن پور–وڈودرا–ممبئی) 1,506 کلومیٹر – 2023 میں مکمل طور پر آپریشنل
اہم یارڈزمکارپورا (وڈودرا)، اجمرا (کلیان)، سابرمتی
طویل ترین پلنرمدا پل (1.4 کلومیٹر) بھروچ کے قریب
بلند ترین مقامتھل گھاٹ (برقی لوکو بینکنگ 1:37)
گہرا ترین کٹبھور گھاٹ (1:36)

2. ڈویژن وار حقائق

ڈویژنہیڈکوارٹرروٹ کلومیٹر (2023)اہم ڈپومنفرد خصوصیت
ممبئی ڈبلیو آرممبئی سینٹرل538ممبئی سینٹرل، باندرا ٹیراجدھانی/شتابدی کے لیے ٹرمینس
وڈودراوڈودرا جنکشن1,104دہود ای ایل ایس، وڈودرا سی اینڈ ڈبلیوبھارت میں مال بردار لوڈنگ کا سب سے بڑا ڈویژن
احمد آباداحمد آباد863سابرمتی ای ایل ایس، اسروا ڈی ای ایم یو شیڈ100 فیصد اے سی ای ایم یو لوکلز چلانے والا پہلا ڈویژن (2020)
راجکوٹراجکوٹ1,176راجکوٹ جنکشن، جام نگرسوراشٹر جزیرہ نما، پیپاواو اور اوکھا کے بندرگاہیں
بھاونگربھاونگر پاڑا565بھاونگر ورکشاپنیا ترین ڈویژن (2022) – النگ شپ بریکنگ ٹریفک
ممبئی سی آر*کلیان434کلیان ای ایل ایس، پیرل ورکشاپسینٹرل + ہاربر ٹرانس کواسٹل ٹریفک سنبھالتا ہے

*تکنیکی طور پر سی آر کے تحت، لیکن ڈبلیو آر وڈودرا تک انفراسٹرکچر شیئر کرتا ہے۔


3. تاریخی سنگ میل

  • 1853 – بی بی اینڈ سی آئی نے بھارت میں پہلی ٹرین کھولی (بمبئی–ٹھانے، 34 کلومیٹر) – اس وقت جی آئی پی آر کے ذریعے چلائی گئی۔
  • 1864 – بمبئی–بارودا براڈ گیج لائن کھولی گئی۔
  • 1870 – اندور–اجین برانچ – وسطی بھارت میں پہلی بی جی لائن۔
  • 1951 – بی بی اینڈ سی آئی بھارتی ریلوے میں ضم ہوئی → 5 نومبر کو “مغربی ریلوے” کے طور پر دوبارہ جنم لیا۔
  • 1968 – پہلی 25 کلو وولٹ اے سی ٹریکشن ممبئی سینٹرل–ویرار سیکشن میں متعارف کرائی گئی۔
  • 1988 – ممبئی–دہلی راجدھانی کا افتتاح؛ ہاوڑہ–دہلی کے باہر پہلی راجدھانی۔
  • 2003 – ممبئی میٹرو-1 (ویرسووا–اندھیری–گھاٹکوپار) اصل میں ڈبلیو آر کے تحت منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن بعد میں ایم ایم آر ڈی اے کو منتقل کر دی گئی۔
  • 2018 – بھارت کی پہلی سی این جی ڈی ای ایم یو گودھرا–کیواڈیا سیکشن پر متعارف کرائی گئی۔
  • 2022 – 100 فیصد برقی کاری کا اعلان؛ آخری ڈیزل سیکشن پالن پور–سماکھیالی تبدیل ہوا۔
  • 2023 – ممبئی–گاندھی نگر وندے بھارت (دوسری نسل) نے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ٹرائل کی۔

4. موجودہ حیثیت اور حالیہ اپ ڈیٹس (2023-24)

  • وندے بھارت کی توسیع: سابرمتی شیڈ میں تیسرا رییک برقرار؛ روزانہ 4 خدمات (ممبئی–گاندھی نگر، ممبئی–شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا ڈبلیو آر کے راستے)۔
  • ڈبلیو ڈی ایف سی انضمام: 1,506 کلومیٹر مغربی ڈی ایف سی اب زون کا 35 فیصد مال برداری کرتا ہے؛ 1.5 کلومیٹر طویل ڈبل اسٹیک کنٹینرز (افریقی اور یورپی لوڈنگ گیج) 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہیں۔
  • اسٹیشن کی دوبارہ ترقی: ممبئی سینٹرل، وڈودرا، احمد آباد (تخمینہ ₹10,000 کروڑ) – “ریلوپولس” ٹرانزٹ ہبز کے طور پر ماڈل بنائے جا رہے ہیں جن میں 60 منزلہ تجارتی ٹاورز ہوں گے۔
  • کاوچ: ممبئی–احمد آباد سیکشن (508 کلومیٹر) 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کے لیے سرٹیفائیڈ؛ 2024 کا ہدف – دہلی تک توسیع۔
  • سبز اقدامات: 100 فیصد ایل ای ڈی، 65 میگا واٹ سولر چھتیں (سابرمتی، دہود، ادوداڈا)؛ 2025 میں پہلی ایچ 2 فیول ہائبرڈ ڈی ای ایم یو ٹرائل کی منصوبہ بندی۔
  • پنک اینڈ لیڈیز اسپیشل: احمد آباد ڈویژن نے “تیجسوینی” تمام خواتین عملے والی ایم ای ایم یو متعارف کرائی (2023)۔
  • نئی لائنیں: سورتندر نگر–دھران گڑھرا–کڈا 90 کلومیٹر (2022)، راجکوٹ–پوربندر ڈبلنگ (2024)، ممبئی–احمد آباد ایچ ایس آر (508 کلومیٹر) – زیر تعمیر؛ والساڈ ضلع میں پہلا پایہ مکمل۔

5. ریلوے امتحانات میں وزن

امتحانمتوقع سوالاتتوجہ کے علاقے
آر آر بی این ٹی پی سی 1 اور 22–3زونز، ہیڈکوارٹر، ڈویژنز، مشہور ٹرینیں، برقی کاری
آر آر بی گروپ ڈی1–2روٹ کلومیٹر، ورکشاپس، نئے ڈویژنز
آر آر بی جے ای/ٹیکنیشن3–4ٹریکشن، سگنلنگ، ڈبلیو ڈی ایف سی، ورکشاپس
آر پی ایف ایس آئی/کانسٹیبل1–2تاریخی پہلیاں، ٹرین کے نام، موجودہ معاملات

6. مشق ایم سی کیوز

1. مندرجہ ذیل میں سے مغربی ریلوے کا نیا ترین ڈویژن کون سا ہے؟جواب: بھاونگر (2022 میں نوٹیفائیڈ)
2. مغربی ریلوے کا ہیڈکوارٹر کہاں واقع ہے؟جواب: ممبئی (چرچ گیٹ)
3. 31 مارچ 2023 تک مغربی ریلوے کا کل روٹ کلومیٹر تقریباً کتنا تھا؟جواب: 4,680 کلومیٹر
4. بھارت کی پہلی سی این جی ڈی ای ایم یو کس کے درمیان چلائی گئی؟جواب: گودھرا – کیواڈیا
5. ڈبلیو آر کا کون سا سیکشن پہلے 25 کلو وولٹ اے سی سے بجلی بنایا گیا تھا؟جواب: ممبئی سینٹرل – ویرار
6. ڈبلیو آر کے دائرہ اختیار میں آنے والے ڈبلیو ڈی ایف سی (مغربی ڈی ایف سی) کی کل لمبائی کتنی ہے؟جواب: 1,506 کلومیٹر
7. مغربی ریلوے پر طویل ترین ریل پل کس دریا کو عبور کرتا ہے؟جواب: نرمدا
8. ڈبلیو آر میں کون سا ڈویژن سب سے زیادہ مال بردار لوڈنگ سنبھالتا ہے؟جواب: وڈودرا
9. ہاوڑہ–دہلی کوریڈور کے باہر متعارف کرائی جانے والی پہلی راجدھانی ایکسپریس کون سی تھی؟جواب: ممبئی–دہلی اگست کرانتی راجدھانی
10. ڈبلیو آر پر "ڈبل ڈیکر" ٹرین کس کے درمیان چلتی ہے؟جواب: ممبئی سینٹرل – احمد آباد
11. مندرجہ ذیل میں سے کون سا شیڈ ممبئی–گاندھی نگر سروس کے لیے وندے بھارت ٹرین کو برقرار رکھتا ہے؟جواب: سابرمتی ای ایل ایس
12. ڈبلیو آر پر سب سے زیادہ ڈھلوان والا گھاٹ سیکشن کون سا ہے؟جواب: تھل گھاٹ (1 میں 37)
13. 100 فیصد برقی کاری حاصل کرنے والا پہلا زون کون سا ہے؟جواب: مغربی ریلوے
14. 508 کلومیٹر کا "کاوچ" ای ٹی سی ایس ٹرائل کوریڈور ڈبلیو آر کے کس راستے پر واقع ہے؟جواب: ممبئی – احمد آباد
15. مغربی ریلوے سرکاری طور پر کس سال قائم کیا گیا تھا؟جواب: 1951
16. بھاونگر ڈویژن کس موجودہ ڈویژن سے نکالا گیا تھا؟جواب: راجکوٹ
17. مندرجہ ذیل میں سے کون سا مغربی ریلوے کی ورکشاپ نہیں ہے؟جواب: جمال پور (یہ مشرقی ریلوے سے تعلق رکھتا ہے)

آخری اپ ڈیٹ: 24 جون 2024 | ماخذ: ڈبلیو آر پنک بک 2023-24، ریلوے بورڈ، پی آئی بی۔