ابواب 10 ایک کہانی یہ بھی
منّو بھنڈاری
سن 1931-2021
منّو بھنڈاری کا جنس سن 1931 میں گاؤں بھانپورہ، ضلع منڈسور (مدھیہ پردیش) میں ہوا لیکن ان کی انٹر تک کی تعلیم و تربیت راجستھان کے اجمیر شہر میں ہوئی۔ بعد میں انہوں نے ہندی میں ایم اے کیا اور دہلی کے میرانڈا ہاؤس کالج میں تدریسی کام سے سبکدوش ہوئیں۔ سن 2021 میں ان کا انتقال ہو گیا۔
آزادی کے بعد ہندی افسانہ نگاری کی نمایاں دستخط منّو بھنڈاری کی اہم تخلیقات ہیں—ایک پلیٹ سیلاب، میں ہار گئی، یہی سچ ہے، ترشینکو (کہانی مجموعہ)؛ آپ کا بنٹی، مہابھوج (ناول)۔ اس کے علاوہ انہوں نے فلم اور ٹیلی ویژن سیریلوں کے لیے پٹکیتھیں بھی لکھیں۔ حال ہی میں ایک کہانی یہ بھی کے نام سے خود سوانح کا اجرا ہوا۔ ان کی ادبی کامیابیوں کے لیے ہندی اکیڈمی کے شکھر اعزاز سمیت انہیں متعدد انعامات مل چکے ہیں جن میں بھارتیہ بھاشا پریشد، کولکتہ، راجستھان سنگیت ناٹک اکیڈمی، اتر پردیش ہندی سنتھان کے انعامات شامل ہیں۔
منّو بھنڈاری کی کہانیاں ہوں یا ناول ان میں زبان اور اسلوب کی سادگی اور حقیقی جذبات ملتے ہیں۔ ان کی تخلیقات میں عورت کے دل سے جڑی جذبات کی عکاسی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
ایک کہانی یہ بھی کے حوالے سے سب سے پہلے تو ہم یہ جان لیں کہ منّو بھنڈاری نے اصطلاحی معنوں میں کوئی مسلسل خود سوانح نہیں لکھی ہے۔ اپنی خود سوانح میں انہوں نے ان افراد اور واقعات کے بارے میں لکھا ہے جو ان کے مصنفانہ زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ مرتب اقتباس میں منّو جی کے کمسن زندگی سے جڑی واقعات کے ساتھ ان کے والد اور ان کے کالج کی پروفیسر شییلا اگروال کا شخصیت خاص طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جنہوں نے آگے چل کر ان کے مصنفانہ شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکھکا نے یہاں بہت ہی خوبصورتی سے عام لڑکی کے غیر عام بننے کے ابتدائی مراحل کو ظاہر کیا ہے۔ سن ‘46-‘47 کی آزادی کی آندھی نے منّو جی کو بھی چھوٹا نہیں چھوڑا۔ چھوٹے شہر کی جوان ہوتی لڑکی نے آزادی کی جنگ میں جس طرح حصہ لیا اس میں اس کا جوش، ولولہ، تنظیم سازی کی صلاحیت اور مخالفت کرنے کا طریقہ دیکھتے ہی بنتا ہے۔
ایک کہانی یہ بھی
پیدا ہوئی تو مدھیہ پردیش کے بھانپورہ گاؤں میں تھی، لیکن میری یادوں کا سلسلہ اجمیر کے برہم پوری محلے کے اس دو منزلہ مکان سے شروع ہوتا ہے، جس کی بالائی منزل میں والد صاحب کا سلطنت تھا، جہاں وہ نہایت بے ترتیب انداز سے پھیلی بکھری کتابوں، رسالوں اور اخبارات کے درمیان یا تو کچھ پڑھتے رہتے تھے یا پھر ‘ڈکٹیشن’ دیتے رہتے تھے۔ نیچے ہم سب بہن بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی ہماری بے پڑھی لکھی بے شخصیت ماں.. صبح سے شام تک ہم سب کی خواہشات اور والد جی کے احکام کی تعمیل کے لیے ہمیشہ تیار۔ اجمیر سے پہلے والد جی اندور میں تھے جہاں ان کی بڑی عزت تھی، احترام تھا، نام تھا۔ کانگریس کے ساتھ ساتھ وہ سماجی اصلاح کے کاموں سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ تعلیم کے وہ صرف نصیحت ہی نہیں دیتے تھے، بلکہ ان دنوں آٹھ آٹھ، دس دس طلبہ کو اپنے گھر رکھ کر پڑھایا ہے جن میں سے کئی تو بعد میں بڑے بڑے عہدوں پر پہنچے۔ یہ ان کی خوشحالی کے دن تھے اور ان دنوں ان کی دریا دلی کی چرچے بھی کم نہیں تھے۔ ایک طرف وہ نہایت نازک اور حساس انسان تھے تو دوسری طرف نہایت غصیلے اور اہمکار۔
لیکن یہ سب تو میں نے صرف سنا۔ دیکھا، تو ان خصوصیات کے باقیات کو اٹھاتے والد تھے۔ ایک بہت بڑا اقتصادی جھٹکے کے باعث وہ اندور سے اجمیر آ گئے تھے، جہاں انہوں نے اپنے اکیلے کے بل بوتے اور حوصلے سے انگریزی ہندی لغت (موضوع وار) کے ادھورے کام کو آگے بڑھانا شروع کیا جو اپنی نوعیت کا پہلا اور اکیلا لغت تھا۔ اس نے انہیں شہرت اور عزت تو بہت دی، لیکن مال نہیں اور شاید گرتے ہوئے اقتصادی حالت نے ہی ان کے شخصیت کے تمام مثبت پہلوؤں کو نچوڑنا شروع کر دیا۔ سکڑتی ہوئی اقتصادی حالت کے باعث اور زیادہ پھیلا ہوا ان کا اہمکار انہیں یہ اجازت بھی نہیں دیتا تھا کہ وہ کم سے کم اپنے بچوں کو تو اپنی مالی مجبوریوں کا شریک بنائیں۔ نوابی عادتیں، ادھوری خواہشات، ہمیشہ چوٹی پر رہنے کے بعد حاشیے پر سرکتے چلے جانے کا عذاب غصہ بن کر ہمیشہ ماں کو کانپتی تھر تھراتی رہتی تھیں۔ اپنے ہاتھوں سے دھوکہ کی جانے والی کتنی گہری چوٹیں ہوں گی وہ جنہوں نے آنکھ بند کر کے سب کا اعتماد کرنے والے والد کو بعد کے دنوں میں اتنا شکی بنا دیا تھا کہ جب جب ہم لوگ بھی اس کی زد میں آتے ہی رہتے۔
لیکن یہ پدر گیت میں اس لیے نہیں گا رہی کہ مجھے ان کا فخر گیت کرنا ہے، بلکہ میں تو یہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ ان کے شخصیت کی کون سی خوبی اور خامیاں میرے شخصیت کے تانے بانے میں گُتھی ہوئی ہیں یا کہ انجانے ان چاہے کیے گئے ان کے رویے نے میرے اندر کن گرتھوں کو جنم دے دیا۔ میں کالی ہوں۔ بچپن میں دبلی اور مریض بھی تھی۔ گورا رنگ والد جی کی کمزوری تھا تو بچپن میں مجھ سے دو سال بڑی، بہت گوری، صحت مند اور ہنس مکھ بہن سشیلا سے ہر بات میں موازنہ اور پھر اس کی تعریف نے ہی، کیا میرے اندر ایسی گہری کمتر احساس کی گرنتھ پیدا نہیں کر دی کہ نام، عزت اور شہرت پانے کے باوجود آج تک میں اس سے نجات نہیں پا سکی؟ آج بھی تعارف کرواتے وقت جب کوئی کچھ خاصیت لگا کر میری مصنفانہ کامیابیوں کا ذکر کرنے لگتا ہے تو میں شرم سے سمٹ ہی نہیں جاتی بلکہ گڑنے گڑنے کو ہو آتی ہوں۔ شاید لاشعور کی کسی پرت کے نیچے دبی اسی کمتر احساس کے باعث میں اپنی کسی بھی کامیابی پر اعتماد نہیں کر پاتی… سب کچھ مجھے ٹکا ہی لگتا ہے۔ والد جی کے جس شکی مزاج پر میں کبھی بھن بھن جاتی تھی، آج اچانک اپنے ٹوٹے ہوئے اعتمادوں کے عذاب کے نیچے مجھے ان کے شکی مزاج کی جھلک ہی نظر آتی ہے… بہت ‘اپنوں’ کے ہاتھوں دھوکہ کی گہری عذاب سے پیدا ہوا شک۔ ہوش سنبھالنے کے بعد سے ہی جن والد جی سے کسی نہ کسی بات پر ہمیشہ میری ٹکر ہی چلتی رہی، وہ تو نہ جانے کتنے روپوں میں مجھ میں ہیں… کہیں کنجوسیوں کے روپ میں، کہیں ردعمل کے روپ میں تو کہیں عکس کے روپ میں۔ صرف بیرونی مختلف ہونے کی بنیاد پر اپنی روایت اور نسلوں کو رد کرنے والوں کو کیا واقعی اس بات کا بالکل احساس نہیں ہوتا کہ ان کا قریبی ماضی کس قدر ان کے اندر جڑ جما کر بیٹھا رہتا ہے! وقت کا بہاؤ بھلے ہی ہمیں دوسری سمتوں میں بہا کر لے جائے… حالات کا دباؤ بھلے ہی ہمارا روپ بدل دے، ہمیں مکمل طور پر اس سے آزاد تو نہیں ہی کر سکتا!
والد کے بالکل برعکس تھیں ہماری بے پڑھی لکھی ماں۔ زمین سے کچھ زیادہ ہی صبر اور برداشت تھی شاید ان میں۔ والد جی کی ہر زیادتی کو اپنا مقدر اور بچوں کی ہر جائز ناجائز فرمائش اور ضد کو اپنا فرض سمجھ کر بڑے سہج بھاؤ سے قبول کرتی تھیں وہ۔ انہوں نے زندگی بھر اپنے لیے کچھ نہیں مانگا، نہیں چاہا… صرف دیا ہی دیا۔ ہم بہن بھائیوں کا سارا لگاؤ (شاید ہمدردی سے پیدا ہوا) ماں کے ساتھ تھا لیکن نہایت بے بسی مجبوری میں لپٹا ان کا یہ قربان کبھی میرا آئیڈیل نہیں بن سکا… نہ ان کا قربان، نہ ان کی برداشت۔ خیر، جو بھی ہو، اب یہ پدر پوران یہیں ختم کر اپنے پر لوٹتی ہوں۔
پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی میں۔ سب سے بڑی بہن کی شادی کے وقت میں شاید سات سال کی تھی اور اس کی ایک دھندلی سی یاد ہی میرے دل میں ہے، لیکن اپنے سے دو سال بڑی بہن سشیلا اور میں نے گھر کے بڑے سے آنگن میں بچپن کے سارے کھیل کھیلے—ستولیا، لنگڑی ٹانگ، پکڑم پکڑائی، کالی ٹیلو… تو کمروں میں گڈے گڑیوں کی شادیاں بھی رچائیں، پاس پڑوس کی سہیلیوں کے ساتھ۔ یوں کھیلنے کو ہم نے بھائیوں کے ساتھ گلی ڈنڈا بھی کھیلا اور پتنگ اڑانے، کانچ پیس کر مانجا سوتنے کا کام بھی کیا، لیکن ان کی سرگرمیوں کا دائرہ گھر کے باہر ہی زیادہ رہتا تھا اور ہماری حد تھی گھر۔ ہاں، اتنا ضرور تھا کہ اس زمانے میں گھر کی دیواریں گھر تک ہی ختم نہیں ہو جاتی تھیں بلکہ پورے محلے تک پھیلی رہتی تھیں اس لیے محلے کے کسی بھی گھر میں جانے پر کوئی پابندی نہیں تھی، بلکہ کچھ گھر تو خاندان کا حصہ ہی تھے۔ آج تو مجھے بڑی شدت کے ساتھ یہ محسوس ہوتا ہے کہ اپنی زندگی خود جینے کے اس جدید دباؤ نے بڑے شہروں کے فلیٹ میں رہنے والوں کو ہمارے اس روایتی ‘پڑوس کلچر’ سے جدا کر کے ہمیں کتنا سکڑا، بے بس اور غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ میری کم از کم ایک درجن ابتدائی کہانیوں کے کردار اسی محلے کے ہیں جہاں میں نے اپنی کمسن عمر گزاری اپنی جوانی کا آغاز کیا تھا۔ ایک دو کو چھوڑ کر ان میں سے کوئی بھی کردار میرے خاندان کا نہیں ہے۔ بس ان کو دیکھتے سنتے، ان کے درمیان ہی میں بڑی ہوئی تھی لیکن ان کی چھاپ میرے دل پر کتنی گہری تھی، اس بات کا احساس تو مجھے کہانیاں لکھتے وقت ہوا۔ اتنے سالوں کے وقفے نے بھی ان کی جذباتی کیفیت، زبان، کسی کو بھی دھندلا نہیں کیا تھا اور بغیر کسی خاص کوشش کے بڑے سہج بھاؤ سے وہ اترتے چلے گئے تھے۔ اسی وقت کے داساہب اپنے شخصیت کی اظہار کے لیے موزوں حالات پاتے ہی ‘مہابھوج’ میں اتنے سالوں بعد کیسے اچانک جاندار ہو اٹھے، یہ میرے اپنے لیے بھی حیرت کا موضوع تھا… ایک خوشگوار حیرت کا۔
اس وقت تک ہمارے خاندان میں لڑکی کی شادی کے لیے لازم شرط تھی—عمر میں سولہ سال اور تعلیم میں میٹرک۔ سن ‘44 میں سشیلا نے یہ شرط حاصل کی اور شادی کر کے کلکتہ چلی گئی۔ دونوں بڑے بھائی بھی آگے تعلیم کے لیے باہر چلے گئے۔ ان لوگوں کی چھتر چھایا کے ہٹتے ہی پہلی بار مجھے نئے سرے سے اپنے وجود کا احساس ہوا۔ والد جی کا دھیان بھی پہلی بار مجھ پر مرکوز ہوا۔ لڑکیوں کو جس عمر میں اسکولی تعلیم کے ساتھ ساتھ خوش نما گھریلو اور ماہر پکوان بنانے کے نسخے جمع کیے جاتے تھے، والد جی کا اصرار رہتا تھا کہ میں باورچی خانے سے دور ہی رہوں۔ باورچی خانے کو وہ بھٹیار خانہ کہتے تھے اور ان کے حساب سے وہاں رہنا اپنی صلاحیت اور قابلیت کو بھٹی میں پھینکنا تھا۔ گھر میں آئے دن مختلف سیاسی جماعتوں کے جلسے ہوتے تھے اور جھڑپ ہوتی تھی۔
بحث کرنا والد جی کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ چائے پانی یا ناشتہ دینے جاتی تو والد جی مجھے بھی وہیں بیٹھنے کو کہتے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں بھی وہیں بیٹھوں، سنوں اور جانوں کہ ملک میں چاروں طرف کیا کچھ ہو رہا ہے۔ ملک میں ہو بھی تو کتنا کچھ رہا تھا۔ سن ‘42 کے تحریک کے بعد تو سارا ملک جیسے کھول رہا تھا، لیکن مختلف سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں، ان کے آپسی مخالفت یا اختلافات کی تو مجھے دور دور تک کوئی سمجھ نہیں تھی۔ ہاں، انقلابیوں اور دیش بھکت شہیدوں کا رومانوی کشش، ان کی قربانیوں سے ضرور دل آکروش رہتا تھا۔
سو دسویں جماعت تک حال یہ تھا کہ بغیر کسی خاص سمجھ کے گھر میں ہونے والی بحثیں سنتی تھی اور بغیر چناؤ کیے، بغیر مصنف کی اہمیت سے واقف ہوئے کتابیں پڑھتی تھی۔ لیکن سن ‘45 میں جیسے ہی دسویں پاس کر کے میں ‘فرسٹ ایئر’ میں آئی، ہندی کی پروفیسر شییلا اگروال سے تعارف ہوا۔ ساویتری گرلز ہائی اسکول… جہاں میں نے ککھڑا سیکھا، ایک سال پہلے ہی کالج بنا تھا اور وہ اسی سال مقرر ہوئی تھیں، انہوں نے باقاعدہ ادب کی دنیا میں داخلہ کروایا۔ صرف پڑھنے کو، چناؤ کر کے پڑھنے میں بدلا… خود چن چن کر کتابیں دیں… پڑھی ہوئی کتابوں پر بحثیں کیں تو دو سال گزرتے نہ گزرتے ادب کی دنیا شرت پریم چند سے بڑھ کر جینیندر، اجنے، یش پال، بھگوت چرن ورما تک پھیل گئی اور پھر تو پھیلتی ہی چلی گئی۔ اس وقت جینیندر جی کی چھوٹے چھوٹے سادہ سہج جملوں والی انداز نے بہت متاثر کیا تھا۔ ‘سنیتا’ (ناول) بہت اچھا لگا تھا، اجنے جی کا ناول ‘شیخر: ایک جیون’ پڑھا ضرور لیکن اس وقت وہ میری سمجھ کے محدود دائرے میں سما نہیں پایا تھا۔ چند سالوں بعد ‘ندی کے جزیرے’ پڑھا تو اس نے دل کو اس قدر باندھا کہ اسی جھونک میں شیخر کو پھر سے پڑھ گئی… اس بار کچھ سمجھ کے ساتھ۔ یہ شاید اقدار کے منٹھن کا دور تھا… پاپ پون، اخلاقی غیر اخلاقی، صحیح غلط کی بنی بنائی تصورات کے آگے سوالیہ نشان ہی نہیں لگ رہے تھے، انہیں منہدم بھی کیا جا رہا تھا۔ اسی سیاق و سباق میں جینیندر کا ‘تیاگ پتر’، بھگوت بابو کا ‘چتر لکھا’ پڑھا اور شییلا اگروال کے ساتھ لمبی لمبی بحثیں کرتے ہوئے اس عمر میں جتنا سمجھا سکتی تھی، سمجھا۔
شییلا اگروال نے ادب کا دائرہ ہی نہیں بڑھایا تھا بلکہ گھر کی چار دیواری کے درمیان بیٹھ کر ملک کی حالات کو جاننے سمجھنے کا جو سلسلہ والد جی نے شروع کیا تھا، انہوں نے وہاں سے کھینچ کر اسے بھی حالات کی سرگرم شراکت میں بدل دیا۔ سن ‘46-47 کے دن… وہ حالات، ان میں ویسے بھی گھر میں بیٹھے رہنا ممکن تھا بھلا؟ پر بھت فیریاں، ہڑتالیں، جلوس، تقریر ہر شہر کا کردار تھا اور پورے دم خم اور جوش خروش کے ساتھ ان سب سے جڑنا ہر نوجوان کا جنون۔ میں بھی نوجوان تھی اور شییلا اگروال کی جوشیلی باتوں نے رگوں میں بہتے خون کو لاوا میں بدل دیا تھا۔ حالت یہ ہوئی
کہ ایک طوفان شہر میں مچا ہوا تھا اور ایک گھر میں۔ والد جی کی آزادی کی حد یہیں تک تھی کہ ان کی موجودگی میں گھر میں آئے لوگوں کے درمیان اٹھ بیٹھوں، جانوں سمجھوں۔ ہاتھ اٹھا اٹھا کر نعرے لگاتی، ہڑتالیں کرواتی، لڑکوں کے ساتھ شہر کی سڑکیں ناپتی لڑکی کو اپنی ساری جدیدیت کے باوجود برداشت کرنا ان کے لیے مشکل ہو رہا تھا تو کسی کی دی ہوئی آزادی کے دائرے میں چلنا میرے لیے۔ جب رگوں میں خون کی جگہ لاوا بہتا ہو تو سارے ممانعت، ساری پابندیاں اور سارا خوف کیسے منہدم ہو جاتا ہے، یہ تبھی جانا اور اپنے غصے سے سب کو تھر تھرا دینے والے والد جی سے ٹکر لینے کا جو سلسلہ تب شروع ہوا تھا، راجندر سے شادی کی، تب تک وہ چلتا ہی رہا۔
یش کامنا بلکہ کہوں کہ یش لپسا، والد جی کی سب سے بڑی کمزوری تھی اور ان کی زندگی کا محور تھا یہ نظریہ کہ انسان کو کچھ خاص بن کر جینا چاہیے… کچھ ایسے کام کرنے چاہیے کہ سماج میں اس کا نام ہو، عزت ہو، شہرت ہو، غلبہ ہو۔ اس کے باعث ہی میں دو ایک بار ان کے غصے سے بچ گئی تھی۔ ایک بار کالج سے پرنسپل کا خط آیا کہ والد جی آ کر ملیں اور بتائیں کہ میری سرگرمیوں کے باعث میرے خلاف انضباطی کارروائی کیوں نہ کی جائے؟ خط پڑھتے ہی والد جی آگ ببولا۔ “یہ لڑکی مجھے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی… پتہ نہیں کیا کیا سننا پڑے گا وہاں جا کر! چار بچے پہلے بھی پڑھے، کسی نے یہ دن نہیں دکھایا۔” غصے سے بھن بھناتے ہوئے ہی وہ گئے تھے۔ لوٹ کر کیا قہر برپا ہوگا، اس کا اندازہ تھا، سو میں پڑوس کی ایک دوست کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ ماں کو کہہ دیا کہ لوٹ کر بہت کچھ گبار نکلے، تب بلانا۔ لیکن جب ماں نے آ کر کہا کہ وہ تو خوش ہی ہیں، چلی چل، تو یقین نہیں ہوا۔ گئی تو سہی، لیکن ڈرتے ڈرتے۔ “سارے کالج کی لڑکیوں پر اتنا رعب ہے تیرا… سارا کالج تم تین لڑکیوں کے اشارے پر چل رہا ہے؟ پرنسپل بہت پریشان تھی اور بار بار اصرار کر رہی تھی کہ میں تجھے گھر بٹھا لوں، کیونکہ وہ لوگ کسی طرح ڈرا دھمکا کر، ڈانٹ ڈپٹ کر لڑکیوں کو کلاسوں میں بھیجتے ہیں اور اگر تم لوگ ایک اشارہ کر دو کہ کلاس چھوڑ کر باہر آ جاؤ تو ساری لڑکیاں نکل کر میدان میں جمع ہو کر نعرے لگانے لگتی ہیں۔ تم لوگوں کے مارے کالج چلانا مشکل ہو گیا ہے ان لوگوں کے لیے۔” کہاں تو جاتے وقت والد جی منہ دکھانے سے گھبرا رہے تھے اور کہاں بڑے فخر سے کہہ کر آئے کہ یہ تو پورے ملک کی پکار ہے… اس پر کوئی کیسے روک لگا سکتا ہے بھلا؟ نہایت گدگد آواز میں والد جی یہ سب سناتے رہے اور میں حیران۔ مجھے نہ اپنی آنکھوں پر یقین ہو رہا تھا، نہ اپنے کانوں پر۔ لیکن یہ حقیقت تھی۔
ایک واقعہ اور۔ آزاد ہند فوج کے مقدمے کا سلسلہ تھا۔ تمام کالجوں، اسکولوں، دکانوں کے لیے ہڑتال کا اعلان تھا۔ جو جو نہیں کر رہے تھے، طلبہ کا ایک بہت
بڑا گروہ وہاں جا جا کر ہڑتال کروا رہا تھا۔ شام کو اجمیر کا پورا طلبہ طبقہ چوپڑ (مرکزی بازار کا چوراہا) پر جمع ہوا اور پھر تقریر بازی ہوئی۔ اس دوران والد جی کے ایک نہایت دقیانوسی دوست نے گھر آ کر اچھی طرح والد جی کی لو اتاری، “ارے اس منّو کی تو مت ماری گئی ہے پر بھنڈاری جی آپ کو کیا ہوا؟ ٹھیک ہے، آپ نے لڑکیوں کو آزادی دی، لیکن دیکھتے آ آپ، جانے کیسے کیسے الٹے سیدھے لڑکوں کے ساتھ ہڑتالیں کرواتی، ہنگامہ مچاتی پھر رہی ہے وہ۔ ہمارے آپ کے گھروں کی لڑکیوں کو شوبھا دیتا ہے یہ سب؟ کوئی مان مریادا، عزت آبرو کا خیال بھی رہ گیا ہے آپ کو یا نہیں؟”

وہ تو آگ لگا کر چلے گئے اور والد جی سارا دن بھبکتے رہے، “بس، اب یہی رہ گیا ہے کہ لوگ گھر آ کر تھو تھو کر کے چلے جائیں۔ بند کرو اب اس منّو کا گھر سے باہر نکلنا۔”
ان سب سے بے خبر میں رات ہونے پر گھر لوٹی تو والد جی کے ایک نہایت قریبی اور ناقابل فراموش دوست ہی نہیں، اجمیر کے سب سے معزز اور محترم ڈاکٹر امبالال جی بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا، آؤ، آؤ منّو۔ میں تو چوپڑ پر تمہاری تقریر سنتے ہی سیدھا بھنڈاری جی کو مبارکباد دینے چلا آیا۔ ‘آئی ایم ریئلی پراؤڈ آف یو’… کیا تم گھر میں گھسے رہتے ہو بھنڈاری جی… گھر سے نکلا بھی کرو۔ ‘یو ہیو مسڈ

سمتھنگ’، اور وہ دھواں دار تعریف کرنے لگے—وہ بولتے جا رہے تھے اور والد جی کے چہرے کا اطمینان آہستہ آہستہ فخر میں بدلتا جا رہا تھا۔ اندر جانے پر ماں نے دوپہر کے غصے والی بات بتائی تو میں نے راحت کی سانس لی۔
آج پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو اتنا تو سمجھ میں آتا ہی ہے کہ اس وقت میری عمر تھی اور میرا تقریر رہا ہوگا! یہ تو ڈاکٹر صاحب کا سنیہ تھا جو ان کے منہ سے تعریف بن کر بہ رہا تھا یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج سے پچاس سال پہلے اجمیر جیسے شہر میں چاروں طرف سے اٹھتی بھیڑ کے درمیان ایک لڑکی کا بغیر کسی شرم اور ہچکچاہٹ کے یوں دھواں دار بولتے چلے جانا ہی اس کے اصل میں رہا ہو۔ لیکن والد جی! کتنی طرح کے اندرونی تضادوں کے درمیان جیتے تھے وہ! ایک طرف ‘خاص’ بننے اور بنانے کی شدید خواہش تو دوسری طرف اپنی سماجی شبیہ کے لیے بھی اتنی ہی ہوشیاری۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے؟ کیا والد جی کو اس بات کا بالکل بھی احساس نہیں تھا کہ ان دونوں کا تو راستہ ہی ٹکراؤ کا ہے؟
سن ‘47 کے مئی مہینے میں شییلا اگروال کو کالج والوں نے نوٹس تھما دیا—لڑکیوں کو بھڑکانے اور کالج کے انضباط خراب کرنے کے الزام میں۔ اس بات کو لے کر ہنگامہ نہ مچے، اس لیے جولائی میں تھرڈ ایئر کی کلاسیں بند کر کے ہم دو تین طالبات کا داخلہ ممنوع کر دیا۔
ہنگامہ تو باہر رہ کر بھی اتنا مچایا کہ کالج والوں کو آخر اگست میں تھرڈ ایئر کھولنا پڑا۔ جیت کی خوشی، لیکن سامنے کھڑی بہت بڑی دیر سے متوقع خوشی کے سامنے یہ خوشی بلا گئی۔
صدی کی سب سے بڑی کامیابی… 15 اگست 1947
سوال مشق
1. لیکھکا کے شخصیت پر کن کن افراد کا کس روپ میں اثر پڑا؟
2. اس خود سوانح میں لیکھکا کے والد نے باورچی خانے کو ‘بھٹیار خانہ’ کہہ کر کیوں مخاطب کیا ہے؟
3. وہ کون سی واقعہ تھی جس کے بارے میں سننے پر لیکھکا کو نہ اپنی آنکھوں پر یقین ہو پایا اور
4. لیکھکا کی اپنے والد سے نظریاتی ٹکراؤ کو اپنے الفاظ میں لکھیں۔
5. اس خود سوانح کے بنیاد پر آزادی تحریک کے منظرنامے کی تصویر کشی کرتے ہوئے اس میں منّو جی کا کردار کو لائنوں میں لائیں۔
تخلیق اور اظہار
6. لیکھکا نے بچپن میں اپنے بھائیوں کے ساتھ گلی ڈنڈا اور پتنگ اڑانے جیسے کھیل بھی کھیلے لیکن لڑکی ہونے کے باعث ان کا دائرہ گھر کی چار دیواری تک محدود تھا۔ کیا آج بھی لڑکیوں کے لیے حالات ایسے ہی ہیں یا بدل گئے ہیں، اپنے ماحول کی بنیاد پر لکھیں۔
7. انسان کی زندگی میں آس پڑوس کا بہت اہمیت ہوتا ہے۔ لیکن بڑے شہروں میں رہنے والے لوگ عموماً ‘پڑوس کلچر’ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس بارے میں اپنے خیالات لکھیں۔
8. لیکھکا کے پڑھے گئے ناولوں کی فہرست بنائیں اور ان ناولوں کو اپنی لائبریری میں تلاش کریں۔
9. آپ بھی اپنے روزمرہ کے تجربات کو ڈائری میں لکھیں۔
زبان مطالعہ
10. اس خود سوانح میں محاوروں کے استعمال سے لیکھکا نے تخلیق کو دلچسپ بنایا ہے۔ لائنوں والے محاوروں کو ذہن میں رکھ کر کچھ اور جملے بنائیں—
(ک) اس دوران والد جی کے ایک نہایت دقیانوسی دوست نے گھر آ کر اچھی طرح والد جی کی $\underline{\text{लू उतारी}}$۔
(کھ) وہ تو $\underline{\text {आग लगाकर}}$ چلے گئے اور والد جی سارا دن بھبکتے رہے۔
(گ) بس اب یہی رہ گیا ہے کہ لوگ گھر آ کر $\underline {\text{ थू-थू करके}}$ چلے جائیں۔
(غ) خط پڑھتے ہی والد جی $\underline{\text{आग-बबूला}}$ آگ ببولا۔
پाठ کے بعد سرگرمی
اس خود سوانح سے ہمیں یہ معلومات ملتی ہیں کہ کیسے لیکھکا کا تعارف ادب کی اچھی کتابوں سے ہوا۔ آپ اس معلومات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اچھی ادبی کتابیں پڑھنے کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ آپ میں سے ہی کوئی اچھا قاری بننے کے ساتھ ساتھ اچھا تخلیق کار بھی بن جائے۔
لیکھکا کے بچپن کے کھیلوں میں لنگڑی ٹانگ، پکڑم پکڑائی اور کالی ٹیلو وغیرہ شامل تھے۔ کیا آپ بھی یہ کھیل کھیلتے ہیں۔ آپ کے ماحول میں ان کھیلوں کے لیے کون سے الفاظ رواج میں ہیں۔ ان کے علاوہ آپ جو کھیل کھیلتے ہیں ان پر بحث کریں۔
آزادی تحریک میں خواتین کی بھی سرگرم شراکت رہی ہے۔ ان کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور ان میں سے کسی ایک پر پراجیکٹ تیار کریں۔
لفظ - دولت
| اہمکار | - گھمنڈی |
| بھگنا وشیش | - کھنڈر (ٹوٹے پھوٹے حصے) |
| وشفاریت | - اور زیادہ پھیلنا (بڑھانا) |
| آکرانت | - کشت گرس |
| نشید | - جس پر پابندی لگائی گئی ہو |
| ورچسوم | - دبدبہ |
| راجندر | - یہاں ہندی کے نمایاں کہانی کار اور ہنس رسالہ کے ایڈیٹر راجندر یادو کے بارے میں کہا گیا ہے |
| مہابھوج | - منّو بھنڈاری کا مشہور ناول ہے۔ داساہب اس کے نمایاں کردار ہیں |
نمونے کے طور پر یہاں 9 سالہ شیونک کی ڈائری کا ایک صفحہ دیا جا رہا ہے—
30 مارچ، 2001 جمعہ
آج صبح پاپا نے جلدی سے مجھے اٹھایا اور کہا، “دیکھو دیکھو، بارش ہو رہی ہے، اولے گر رہے ہیں۔ بہت سردی پڑ رہی ہے۔” پھر میں جلدی سے اٹھا اور پاپا سے کہا، “دیدی کو بھی اٹھاؤ۔” پھر ہم نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے سامنے والے گراؤنڈ میں ہری ہری گھاس پر سفید سفید اولے گر رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے چمیلی کے پھول گرا رکھے ہوں۔ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اولے پڑ رہے تھے۔ بارش ہو رہی تھی، چڑیاں بھاگ رہی تھیں، کوے پریشان تھے، درخت کانپ رہے تھے، بجلی چمک رہی تھی، بادل ڈرا رہے تھے۔ ایک چڑیا ہماری کھڑکی پر ڈری ڈری بیٹھی تھی۔ بہت دیر تک بیٹھی رہی۔ پھر اڑ گئی۔ ابھی تک کوئی بچہ کھیلنے نہیں نکلا۔ اس لیے میں آج جلدی ڈائری لکھ رہا ہوں۔ صبح کے دس بجے ہیں۔ میں اپنا سیریل دیکھنے جا رہا ہوں۔ آج میرا نیا انک پن اور پنسل باکس آیا۔ آج دوپہر کو دھوپ نکلی، پھر ہم کھیلنے نکلے۔ آج کل ہم لوگ مٹی کے گولے بنا کے سکھا دیتے ہیں پھر ہم ان کے اوپر پینٹنگ کرتے ہیں اس کے بعد پھر ان سے کھیلتے ہیں۔
جانیں لنگڑی کی کشتی کیسے کھیلی جاتی ہے—
ایک جگہ بیچ کی لائن کے برابر فاصلے پر دو لکیریں کھینچی جاتی ہیں۔ دو کھلاڑی بیچ کی لائن پر آ کر لنگڑی باندھ کر اپنے مقابلے والے کو اپنی اپنی لائن کے پار کھینچ لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی لنگڑی ٹوٹ جاتی ہے یا جو کھنچ جاتا ہے اس کی ہار ہوتی ہے۔ یہ کھیل ٹولیوں میں بھی کھیلا جاتا ہے۔ دیے گئے وقت کے اندر جس ٹولی کے زیادہ بچے لنگڑی توڑ دیتے ہیں یا کھنچ جاتے ہیں اس ٹولی کی ہار ہوتی ہے۔