ابواب 02 خوابوں کے-سے دن
گردیال سنگھ
سن 1933-2016
پنجاب کے جیتو قصبے میں 10 جنوری 1933 کو ایک سادہ دستکار خاندان میں پیدا ہونے والے گردیال سنگھ نے بچپن میں کیلوں، ہتھوڑوں سے کام لیتے ہوئے تعلیم مکمل کی اور قلم پکڑی۔ 1954 سے 1970 تک اسکول میں استاد رہے۔ پہلی کہانی 1957 میں پنچ دریا رسالے میں شائع ہوئی۔ جب کالج میں پروفیسر ہوئے تو اپنے ہی ناول پڑھانے کا موقع ملا۔ بالآخر یونیورسٹی میں پروفیسر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
گردیال ٹھیٹھ دیہی ماحول اور جذبات کے مصنف کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ بڑے سہج انداز سے وہ اپنے کرداروں کا انتخاب کھیتی باڑی کے مزدوروں، پسماندہ اور دلت طبقے کے لوگوں کے درمیان سے کرتے ہیں جو صدیوں سے اپنے معاشرے کی اس آلودہ نظام کے شکار ہیں جو نسل در نسل ان کی جسمانی ہڈیوں کو ہی نہیں گلاتی رہی ہے، ان کی پوری ذہنیت کو عاجز، حقیر اور بے بس بنائے ہوئے ہے۔
پنجابی زبان میں نمایاں خدمات کے لیے گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازے گئے گردیال سنگھ کو اپنے تحریر کے لیے ساہتیہ اکادمی، سوویت لیند نہرو ایوارڈ، پنجاب کی ساہتیہ اکادمی سمیت کئی دیگر ایوارڈز سے نوازے جانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے بطور مصنف کئی ممالک کا سفر بھی کیا۔
انہوں نے اب تک نو ناول، دس کہانی مجموعے، ایک ڈرامہ، ایک ایکانک مجموعہ، بچوں کی ادب کی دس کتابیں اور مختلف نثر کی دو کتابوں کی تخلیق کی ہے۔ گردیال سنگھ کی نمایاں تصانیف ہیں-مڑھی کا دیوا، اث-چاندنی رات، پانچواں پہر، سب دیش پرایا، سانجھ-سبیرے اور (آتماکتا) کیا جانوں میں کون؟ گردیال سنگھ کا انتقال 16 اگست 2016 کو ہوا۔
خوابوں کے-سے دن
میرے ساتھ کھیلنے والے تمام بچوں کا حال ایک جیسا ہوتا۔ ننگے پاؤں، پھٹی-میلی سی کچھی اور ٹوٹے بٹنوں والے کئی جگہ سے پھٹے کرتے اور بکھرے بال۔ جب لکڑی کے ڈھیر پر چڑھ کر کھیلتے نیچے کو بھاگتے تو گر کر کئی تو جانے کہاں-کہاں چوٹ کھا لیتے اور پہلے ہی پھٹے-پرونے کرتے تار-تار ہو جاتے۔ گرد و غبار سے بھرے، کئی جگہ سے چھلتے پاؤں، پنڈلیوں یا خون کے اوپر جمی ریت-مٹی سے لتھڑے گھٹنے لے کر جاتے تو سبھی کی ماں-بہنیں ان پر ترس کھانے کی جگہ اور پٹائی کرتیں۔ کئیوں کے باپ بڑے غصیلے تھے۔ پیٹنے لگتے تو یہ دھیان بھی نہ رکھتے کہ چھوٹے بچے کے ناک-منہ سے خون بہنے لگا ہے یا اس کے کہاں چوٹ لگی ہے۔ پرنتو اتنی بری پٹائی ہونے پر بھی دوسرے دن پھر کھیلنے چلے آتے۔ (یہ بات تب ٹھیک سے سمجھ آئی جب اسکول استاد بننے کے لیے ایک ٹریننگ ${ }^{1}$ کرنے گیا اور وہاں بچوں کے نفسیات کا مضمون پڑھا۔ ایسی باتوں کے بارے میں تب ہی جان پایا کہ بچوں کو کھیلنا کیوں اتنا اچھا لگتا ہے کہ بری طرح پٹائی ہونے پر بھی پھر کھیلنے چلے آتے ہیں۔)
میرے ساتھ کھیلنے والے اکثر ساتھی ہمارے جیسے ہی خاندانوں کے ہوا کرتے۔ سارے محلے میں بہت خاندان تو، ہماری طرح آس پاس کے گاؤں سے ہی آ کر بسے تھے۔ دو-تین گھر، ساتھ کی اجڑی-سی گلی میں رہنے والے لوگوں کے تھے۔ ہماری سبھی کی عادات بھی کچھ ملتی جلتی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تو اسکول جاتے ہی نہ تھے، جو کبھی گئے بھی، پڑھائی میں دلچسپی نہ ہونے کے کسی دن بستہ تالاب میں پھینک آئے اور پھر اسکول گئے ہی نہیں، نہ ہی ماں-باپ نے زبردستی بھیجا۔ یہاں تک کہ پرچون والے، آڑھتی بھی اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا ضروری نہ سمجھتے۔ کبھی کسی اسکول استاد سے بات ہوتی تو کہتے-ماسٹر جی ہم نے اسے کیا تحصیلدار لگوانا ہے۔ تھوڑا بڑا ہو جائے تو پنڈت گھنشام داس سے لنڈے ${ }^{2}$ پڑھوا کر دکان پر بہیاں لکھنے لگا لیں گے۔ پنڈت چھہ-آٹھ مہینے میں لنڈے اور منیمی کا سبھی کام سکھا دے گا۔ وہاں تو ابھی تک الف-بے جیم-چ بھی سیکھ نہیں پایا ہے۔

ہمارے آدھے سے زیادہ ساتھی راجستھان یا ہریانہ سے آ کر منڈی میں تجارت یا دکانداری کرنے آئے خاندانوں سے تھے۔ جب بہت چھوٹے تھے تو ان کی بولی کم سمجھ پاتے۔ ان کے کچھ الفاظ سن کر ہمیں ہنسی آنے لگتی۔ پرنتو کھیلتے تو سبھی ایک دوسرے کی بات خوب اچھی طرح سمجھ لیتے۔
پتا بھی نہیں چلا کہ لوک کہاوت کے مطابق ‘ایہ کھڈݨ 4 دے دن چار’ کیسے، کب بیت گئے۔ (ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو اسکول کے کمرے میں بیٹھ کر پڑھنے کو ‘قید’ نہ سمجھتا ہو۔) کچھ اپنے ماں-باپ کے ساتھ جیسا بھی تھا، کام کرانے لگے۔
بچپن میں گھاس زیادہ ہری اور پھولوں کی خوشبو زیادہ دلکش لگتی ہے۔ یہ لفظ شاید آدھی صدی پہلے کسی کتاب میں پڑھے تھے، پرنتو آج تک یاد ہیں۔ یاد رہنے کا سبب یہی ہے کہ یہ جملہ بچپن کی جذبات، سوچ-سمجھ کے مطابق ہوگا۔ پرنتو اسکول کے اندر جانے سے راستے کے دونوں اطراف جو الیاں کے بڑے ڈھنگ سے کٹے چھانٹے جھاڑ اگے تھے (جنہیں ہم ڈنڈیاں کہا کرتے) ان کے نیم کے پتوں جیسے پتوں کی خوشبو آج تک بھی آنکھ بند کر کے محسوس کر سکتا ہوں۔ ان دنوں اسکول کی چھوٹی کیاریوں میں پھول بھی کئی طرح کے اگائے جاتے تھے جن میں گلاب، گیندا اور موتیا کی دودھ-سی سفید کالیاں بھی ہوا کرتیں۔ یہ کالیاں اتنی خوبصورت اور خوشبودار ہوتی تھیں کہ ہم چندو چپڑاسی سے آنکھ بچا کر کبھی کبھار ایک-دو توڑ لیا کرتے۔ ان کی بہت تیز خوشبو آج بھی محسوس کر پاتا ہوں، پرنتو یہ یاد نہیں کہ انہیں توڑ کر، کچھ دیر سونگھ کر پھر کیا کیا کرتے۔ (شاید جیب میں ڈال لیتے، ماں انہیں دھونے کے وقت نکال کر باہر پھینک دیتی یا ہم ہی، اسکول سے باہر آتے انہیں بکری کے میموں کی طرح ‘چر’ جایا کرتے)۔
جب اگلی جماعت میں داخل ہوتے تو ایک طرف تو کچھ بڑے، سمجھدار ہونے کے احساس سے پرجوش بھی ہوتے، پرنتو دوسری طرف نئی، پرانی کاپیوں-کتابوں سے جانے کیسی باس آتی کہ انہی ماسٹروں کے ڈر سے کانپنے لگتے جو پچھلی جماعت میں پڑھا چکے ہوتے۔
تب اسکول میں، شروع سال میں ایک ڈیڑھ مہینہ پڑھائی ہوا کرتی، پھر ڈیڑھ-دو مہینے کی چھٹیاں شروع ہو جایا کرتیں۔ اب تک جو بات اچھی طرح یاد ہے وہ چھٹیوں کے پہلے اور آخری دنوں کا فرق تھا۔ پہلے دو-تین ہفتہ تو خوب کھیل-کود ہوا کرتی۔ ہر سال ہی ماں کے ساتھ ننھیال چلے جاتے۔ وہاں نانی خوب دودھ-دہی، مکھن کھلاتی، بہت پیار کرتی۔ چھوٹا سا پسماندہ گاؤں تھا پرنتو تالاب ہماری منڈی کے تالاب جتنا ہی بڑا تھا۔ دوپہر تک تو اس تالاب میں نہاتے پھر نانی سے جو جی میں آتا مانگ کر کھانے لگتے۔ نانی ہماری بولنے کے ڈھنگ یا کم کھانے کے سبب بہت خوش ہوتی۔ اپنے پوتوں کو ہماری طرح بولنے اور کھانے-پینے کو کہتی۔ جس سال ننھیال نہ جا پاتے، اس سال بھی اپنے گھر سے تھوڑا باہر تالاب پر چلے جاتے۔ کپڑے اتار پانی میں کود جاتے اور کچھ وقت بعد، بھاگتے ہوئے ایک ریتلے ٹیلے پر جا کر، ریت کے اوپر لیٹنے لگتے۔ گیلے جسم
کو گرم ریت سے خوب لتھڑ کر اسی طرح بھاگتے، کسی اونچی جگہ سے تالاب میں چھلانگ لگا دیتے۔ ریت کو گندلے پانی سے صاف کر پھر ٹیلے کی طرف بھاگ جاتے۔ یاد نہیں کہ ایسا، پانچ-دس بار کرتے یا پندرہ-بیس بار۔ کئی بار تالاب میں کود کر ایسے ہاتھ-پاؤں ہلاتے جیسے بہت اچھے تیراک ہوں۔ پرنتو ایک-دو کو چھوڑ، میرے کسی ساتھی کو تیرنا نہیں آتا تھا۔ کچھ تو ہاتھ-پاؤں ہلاتے ہوئے گہرے پانی میں چلے جاتے تو دوسرے انہیں باہر آنے کے لیے کسی بھینس کے سینگ یا دم پکڑ کر باہر آنے کی صلاح دیتے۔ انہیں ڈھانڈھس باندھتے۔ کودتے وقت منہ میں گندلا پانی بھر جاتا تو بری طرح کھانستے۔ کئی بار ایسا لگتا کہ سانس رکنے لگے ہے پرنتو ہائے-ہائے کرتے کسی نہ کسی طرح تالاب کے کنارے پہنچ جاتے۔
پھر چھٹیاں بیتنے لگتیں تو دن گننے لگتے۔ ہر دن ڈر بڑھتا چلا جاتا۔ کھیل-کود اور تالاب میں نہانا بھی بھولنے لگتا۔ ماسٹروں نے جو چھٹیوں میں کرنے کے لیے کام دیا ہوتا اس کا حساب لگانے لگتے۔ جیسے حساب کے ماسٹر جی دو سو سے کم سوال کبھی نہ بتاتے۔ دل میں حساب لگاتے کہ اگر دس سوال روز نکالیں تو بیس دن میں پورے ہو جائیں گے۔ جب ایسا سوچنا شروع کرتے تو چھٹیوں کا ایک مہینہ باقی ہوا کرتا۔ ایک-ایک دن گنتے دس دن کھیل-کود میں اور بیت جاتے۔ اسکول کی پٹائی کا ڈر اور بڑھنے لگتا۔ پرنتو ڈر بھلانے کے لیے سوچتے کہ دس کو کیا بات، سوال تو پندرہ بھی آسانی سے روز نکالے جا سکتے ہیں۔ جب ایسا حساب لگانے لگتے تو چھٹیاں کم ہوتے-ہوتے جیسے بھاگنے لگتیں۔ دن بہت چھوٹے لگنے لگتے۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے سورج بھاگ کر دوپہر میں ہی چھپ جاتا ہو۔ جیسے-جیسے دن ‘چھوٹے’ ہونے لگتے اسکول کا خوف بڑھنے لگتا۔ ہمارے کتنے ہی ہم جماعت ایسے بھی ہوتے جو چھٹیوں کا کام کرنے کی بجائے ماسٹروں کی پٹائی زیادہ ‘سستا سودا’ سمجھتے۔ ہم جو پٹائی سے بہت ڈرا کرتے، ان ‘بہادروں’ کی طرح ہی سوچنے لگتے۔ ایسے وقت ہمارا سب سے بڑا ‘لیڈر’ اوما ہوا کرتا۔
ہم سبھی اس کے بارے میں سوچتے کہ ہمارے میں اس جیسا کون تھا۔ کبھی بھی اس جیسا دوسرا لڑکا نہیں ڈھونڈ پاتے تھے۔ اس کی باتیں، گالیاں، مار-پٹائی کا ڈھنگ تو الگ تھا ہی، اس کی شکل-صورت بھی سب سے الگ تھی۔ ہانڈی جتنا بڑا سر، اس کے ٹھگنے چار بالش کے جسم پر ایسا لگتا جیسے بلی کے بچے کے ماتھے پر تربوز رکھا ہو۔ اتنے بڑے سر میں ناریل-کی-سی آنکھوں والا بندریا کے بچے جیسا چہرہ اور بھی عجیب لگتا۔ لڑائی وہ ہاتھ-پاؤں نہیں، سر سے کیا کرتا۔ جب سانڈ کی طرح پھنکارتا، سر جھکا کر کسی کے پیٹ یا چھاتی میں مار دیتا تو اس سے دگنے-تگنے جسم والے لڑکے بھی درد سے چلانے لگتے۔ ہمیں ڈر لگتا کہ کسی کی چھاتی کی پسلی ہی نہ توڑ ڈالے۔ اس کے سر کی ٹکر کا نام ہم نے ‘ریل-بمبا’ رکھا ہوا تھا-ریل کے (کوئلے سے چلنے والے) انجن کی طرح بڑا اور خوفناک ہی تو تھا۔
ہمارا اسکول بہت چھوٹا تھا-صرف چھوٹے-چھوٹے نو کمرے تھے جو انگریزی کے حرف ایچ (H) کی طرح بنے تھے۔ دائیں طرف پہلا کمرہ ہیڈماسٹر شری مدن موہن شرما جی کا تھا جس کے دروازے کے آگے ہمیشہ چک لٹکی رہتی۔ اسکول کی پریئر (دعا) کے وقت وہ باہر آتے اور سیدھی قطاروں میں قد کے مطابق کھڑے لڑکوں کو دیکھ کر ان کا گورا چہرہ کھل اٹھتا۔ سارے اساتذہ، لڑکوں کی طرح ہی قطار باندھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہوتے۔ صرف ماسٹر پریتم چند ‘پی ٹی’ لڑکوں کی قطاروں کے پیچھے کھڑے-کھڑے یہ دیکھتے تھے کہ کون سا لڑکا قطار میں ٹھیک نہیں کھڑا ہے۔ ان کی گھڑکی اور ٹھڈوں کے ڈر سے ہم سب قطار کے پہلے اور آخری لڑکے کا دھیان رکھتے، سیدھی قطار میں بنے رہنے کی کوشش کرتے۔ سیدھی قطار کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ دھیان بھی رکھنا ہوتا تھا کہ آگے پیچھے کھڑے لڑکوں کے درمیان کی دوری بھی ایک سی ہو۔ سبھی لڑکے اس ‘پی ٹی’ سے بہت ڈرتے تھے کیونکہ ان جتنا سخت استاد نہ کبھی کسی نے دیکھا، نہ سنا تھا۔ اگر کوئی لڑکا اپنا سر بھی ادھر-ادھر ہلا لیتا یا پاؤں سے دوسری پنڈلی کھجوانے لگتا تو وہ اس کی طرف بگھ کی طرح جھپٹ پڑتے اور ‘کھال کھینچنے’ کے محاورے کو براہِ راست کر کے دکھا دیتے۔

پرنتو ہیڈماسٹر شرما جی اس کے بالکل برعکس مزاج کے تھے۔ وہ پانچویں اور آٹھویں جماعت کو انگریزی خود پڑھایا کرتے تھے۔ ہمارے میں سے کسی کو بھی یاد نہ تھا کہ پانچویں جماعت میں کبھی بھی انہیں، کسی غلطی کے سبب کسی کی ‘چمڑی ادھیڑتے’ دیکھا یا سنا ہو۔ (چمڑی ادھیڑنا ہمارے لیے بالکل ایسا لفظ تھا جیسے ہمارے ‘سرکاری مڈل اسکول’ کا نام۔) زیادہ سے زیادہ وہ غصے میں بہت جلدی-جلدی آنکھیں جھپکاتے، اپنے لمبے ہاتھ کی الٹی انگلیوں سے ایک ‘چپت’ ہماری گال پر مار دیتے تو میرے جیسے سب سے کمزور جسم والے بھی سر جھکا کر منہ نیچا کیے ہنس دیتے۔ وہ چپت تو جیسے ہمیں بھائی بھیکھے کی نمکین پاپڑی جیسی مزیدار لگتی جو تب پیسے کی شاید دو آ جایا کرتی تھیں۔
پرنتو تب بھی اسکول ہمارے لیے ایسی جگہ نہ تھا جہاں خوشی سے بھاگے جائیں۔ پہلی کچی جماعت سے لے کر چوتھی جماعت تک، صرف پانچ-سات لڑکوں کو چھوڑ ہم سب روتے چلاتے ہی اسکول جایا کرتے۔
پرنتو کبھی-کبھی ایسی سبھی حالتوں کے باوجود اسکول اچھا بھی لگنے لگتا۔ جب سکاؤٹنگ کا مشق کرواتے وقت پی ٹی صاحب نیلی-پیلی جھنڈیاں ہاتھوں میں پکڑا کر ون ٹو تھری کہتے، جھنڈیاں اوپر-نیچے دائیں-بائیں کرواتے تو ہوا میں لہراتی اور
پھڑپھڑاتی جھنڈیوں کے ساتھ خاکی وردیوں اور گلے میں دو رنگے رومال لٹکائے مشق کیا کرتے۔ ہم کوئی غلطی نہ کرتے تو وہ اپنی چمکیلی آنکھیں ہلکی سے جھپکاتے کہتے-شاباش۔ ویل بیگن اگین-ون، ٹو، تھری، تھری، ٹو، ون! ان کی ایک شاباش ایسے لگنے لگتی جیسے ہم نے کسی فوج کے سبھی تمغے جیت لیے ہوں۔ کبھی یہی ایک شاباش، سبھی ماسٹروں کی طرف سے، ہماری سبھی کاپیوں پر سال بھر کی لکھی ‘گڈوں’ (گڈ کا بہوچن) سے زیادہ قیمتی لگنے لگتی۔ کبھی ایسا بھی لگتا کہ کئی سال کی سخت محنت سے حاصل کی پڑھائی سے بھی پی ٹی صاحب کے ڈسپلن میں رہ کر حاصل کی ‘گڈویل’ بہت بڑی تھی۔ پرنتو یہ احساس بھی رہتا کہ جیسے گدورے کا بھائی جی کہانی کرتے وقت بتایا کرتا کہ ستیگور کے ڈر سے ہی پیار جاگتا ہے، ایسے ہی پی ٹی صاحب کے لیے ہماری پیار کی بھاونا جاگ جاتی۔ (یہ ایسا بھی ہے کہ آپ کو روز ڈانٹنے والا کوئی ‘اپنا’ اگر سال بھر کے بعد ایک بار ‘شاباش’ کہہ دے تو یہ کرشمہ-سا لگنے لگتا ہے-ہماری حالت بھی کچھ ایسی ہوا کرتی۔)
ہر سال اگلی جماعت میں داخلہ ہوتے وقت مجھے پرانی کتابیں ملا کرتیں۔ ہمارے ہیڈماسٹر شرما جی ایک لڑکے کو اس کے گھر جا کر پڑھایا کرتے تھے۔ وہ دولت مند لوگ تھے۔ ان کا لڑکا مجھ سے ایک-دو سال بڑا ہونے کے سبب میرے سے ایک جماعت آگے رہا۔ ہر سال اپریل میں جب پڑھائی کا نیا سال شروع ہوتا تو شرما جی اس کی ایک سال پرانی کتابیں لے آتے۔ ہمارے گھر میں کسی کو بھی پڑھائی میں دلچسپی نہ تھی۔ اگر نئی کتابیں لانی پڑتیں (جو تب ایک-دو روپے میں آ جایا کرتیں) تو شاید اسی بہانے پڑھائی تیسری-چوتھی جماعت میں ہی چھوٹ جاتی۔ کوئی سات سال اسکول میں رہا تو ایک سبب پرانی کتابیں مل جانا بھی تھا۔ کاپیوں، پنسلوں، ہولڈر یا سیاہی-دوات میں بھی مشکل سے ایک-دو روپے سال بھر میں خرچ ہوا کرتے۔ پرنتو اس زمانے میں ایک روپیہ بھی بہت بڑی ‘رقم’ ہوا کرتی تھی۔ ایک روپے میں ایک سیر گھی آیا کرتا اور دو روپے کی ایک من (چالیس سیر) گندم۔ اسی سبب، کھاتے-پیتے گھروں کے لڑکے ہی اسکول جایا کرتے۔ ہمارے دو خاندانوں میں میں پہلا لڑکا تھا جو اسکول جانے لگا تھا۔
پرنتو کسی بھی نئی جماعت میں جانے کا ایسا چاہ کبھی بھی محسوس نہیں ہوا جس کا ذکر کچھ لڑکے کیا کرتے۔ عجیب بات تھی کہ مجھے نئی کاپیوں اور پرانی کتابوں میں سے ایسی خوشبو آنے لگتی کہ دل بہت اداس ہونے لگتا تھا۔ اس کا ٹھیک-ٹھیک سبب تو کبھی سمجھ میں نہیں آیا پرنتو جتنی بھی نفسیات کی معلومات ہے، اس بے دلچسپی کا سبب یہی سمجھ میں آیا کہ آگے کی جماعت کی کچھ مشکل پڑھائی اور نئے ماسٹروں کی مار-پٹ کا ڈر ہی کہوں اندر جا کر بیٹھ گیا تھا۔ سبھی تو نئے نہ ہوتے تھے پرنتو دو-تین ہر سال ہی وہ ہوتے جو کہ چھوٹی جماعت میں نہیں پڑھاتے تھے۔ کچھ ایسی بھی بھاونا تھی کہ زیادہ اساتذہ ایک سال میں ایسی امید کرنے لگتے جیسے ہم ‘ہرفنمولا ${ }^{8}$ ’ ہو گئے ہوں۔ اگر ان کی امیدوں پر پورے نہ ہو پاتے تو کچھ تو جیسے ‘چمڑی ادھیڑ دینے کو تیار رہتے’، انھی کچھ سببوں سے صرف کتابوں-کاپیوں کی خوشبو سے ہی نہیں، باہر کے بڑے گیٹ سے دس-پندرہ گز دور اسکول کے کمروں تک راستے کے دونوں اطراف جو الیار کے جھاڑ اگے تھے ان کی خوشبو بھی دل اداس کر دیا کرتی۔
پرنتو اسکول ایک-دو سببوں سے اچھا بھی لگنے لگا تھا۔ ماسٹر پریتمچند جب ہم سکاؤٹوں کو پریڈ کرواتے تو لیفٹ-رائٹ کی آواز یا منہ میں لی ہُسل سے مارچ کروایا کرتے۔ پھر رائٹ ٹرن یا لیفٹ ٹرن یا اباؤٹ ٹرن کہنے پر چھوٹے-چھوٹے بوٹوں کی ایڑیوں پر دائیں-بائیں یا ایک دم پیچھے مڑ کر بوٹوں کی ٹھک-ٹھک کرتے اکڑ کر چلتے تو لگتا جیسے ہم طالب علم نہیں، بہت اہم ‘آدمی’ ہوں-فوجی جوان۔
دوسری عالمی جنگ کا وقت تھا، پرنتو ہماری نابھا ریاست کا راجہ انگریزوں نے 1923 میں گرفتار کر لیا تھا اور تمل ناڈو میں کوڈایکینال میں ہی، جنگ شروع ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس راجہ کا بیٹا، کہتے تھے ابھی ولایت میں پڑھ رہا تھا۔ اس لیے ہماری دیسی ریاست میں بھی انگریز کی ہی چلتی تھی پھر بھی راجہ کے نہ رہتے، انگریز ہماری ریاست کے گاؤں سے ‘زبردستی’ بھرتی نہیں کر پایا تھا۔ لوگوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے لیے جب کچھ افسر آتے تو ان کے ساتھ کچھ ناٹک والے بھی ہوا کرتے۔ وہ رات کو کھلے میدان میں شامیانے لگا کر لوگوں کو فوج کے سکھ-آرام، بہادری کے مناظر دکھا کر متوجہ کیا کرتے۔ ان کا ایک گانا اب بھی یاد ہے۔ کچھ مسخرے، عجیب سی وردیاں پہنے اور اچھے، بڑے فوجی بوٹ پہنے گایا کرتے-
بھرتی ہو جا رے رنگروٹ
بھرتی ہو جا رے…
اتھے میلے سین ٹوٹے لیٹر
اتھے میلیندے بوٹ،
بھرتی ہو جا رے،
ہو جا رے رنگروٹ۔
اتھے پہن سین فٹے پرانے
اتھے ملینگے سوٹ
بھرتی ہو جا رے،
ہو جا رے رنگروٹ
انھی باتوں سے متاثر ہو کر کچھ نوجوان بھرتی کے لیے تیار ہو جایا کرتے۔
کبھی-کبھی ہمیں بھی محسوس ہوتا کہ ہم بھی فوجی جوانوں سے کم نہیں۔ دھوبی کی دھلی وردی اور پالش کیے بوٹ اور جرابوں کو پہن کر جب ہم سکاؤٹنگ کی پریڈ کرتے تو لگتا ہم فوجی ہی ہیں۔
ماسٹر پریتمچند کو اسکول کے وقت میں کبھی بھی ہم نے مسکراتے یا ہنستے نہیں دیکھا تھا۔ ان کا ٹھگنا قد، دبلا-پتلا پرنتو گٹھیلا جسم، ماتا کے داغوں سے بھرا چہرہ اور باز-سی تیز آنکھیں، خاکی وردی، چمڑے کے چوڑے پنجوں والے بوٹ-سبھی کچھ ہی خوف زدہ کرنے والا ہوا کرتا۔ ان کے بوٹوں کی اونچی ایڑیوں کے نیچے بھی کھوریاں لگی رہتیں، جیسے ٹانگے کے گھوڑے کے پاؤں میں لگی رہتی ہیں۔ آگلے حصے میں، پنجوں کے نیچے موٹے سروں والے کیل ٹھوکے ہوتے۔ اگر وہ سخت جگہ پر بھی چلتے تو کھوریوں اور کیلوں کے نشان وہاں بھی نظر آتے۔ ہم دھیان سے دیکھتے، اتنے بڑے اور بھاری-بھاری بوٹ پہننے کے باوجود ان کے ٹخنوں میں کہیں موچ تک نہیں آتی تھی۔ (انہیں دیکھ کر ہم اگر گھر والوں سے بوٹوں کی مانگ کرتے تو ماں-باپ یہی کہتے کہ ٹخنے ٹیڑھے ہو جائیں گے، ساری عمر سیدھے نہ چل پاؤ گے۔)
ماسٹر پریتمچند سے ہمارا ڈرنا تو فطری تھا، پرنتو ہم ان سے نفرت بھی کرتے تھے۔ سبب تو اس کا مارپیٹ تھا۔ ہم سب کو (جو میری عمر کے ہیں) وہ دن نہیں بھول پایا جس دن وہ ہمیں چوتھی جماعت میں فارسی پڑھانے لگے تھے۔ ہمیں اردو کا تو تیسری جماعت تک اچھا مشق ہو گیا تھا پرنتو فارسی تو انگریزی سے بھی مشکل تھی۔ ابھی ہمیں پڑھتے ایک ہفتہ بھی نہ ہوا ہوگا کہ پریتمچند نے ہمیں ایک لفظ-روپ یاد کرنے کو کہا اور حکم دیا کہ کل اسی گھنٹی میں زبانی سنیں گے۔ ہم سب گھر لوٹ کر، رات دیر تک اسی لفظ-روپ کو بار-بار یاد کرتے رہے پرنتو صرف دو-تین ہی لڑکے تھے جنہیں آدھی یا کچھ زیادہ لفظ-روپ یاد ہو پایا۔ دوسرے دن باری-باری سب کو سنانے کے لیے کہا تو ایک بھی لڑکا نہ سن پایا۔ تبھی ماسٹر جی گرجے-سبھی کان پکڑو۔
ہم نے جھک کر ٹانگوں کے پیچھے سے بازو نکال کر کان پکڑے تو وہ غصے سے چیخے-پیٹھ اونچی کرو۔
پیٹھ اونچی کر کے کان پکڑنے سے، تین-چار منٹ میں ہی ٹانگوں میں جلن ہونے لگتی تھی۔ میرے جیسے کمزور تو ٹانگوں کے تھکنے سے کان پکڑے ہوئے ہی گر پڑتے۔ جب تک میری اور ہربنس کی باری آئی تب تک ہیڈماسٹر شرما جی اپنے دفتر میں آ چکے تھے۔ جب ہمیں سزا دی جا رہی تھی تو اس کے کچھ
وقت پہلے شرما جی، اسکول کی پورب کی طرف بنے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر کپلاش سے ملنے گئے تھے۔ وہ دفتر کے سامنے کی طرف چلے آئے۔ آتے ہی جو کچھ انہوں نے دیکھا وہ برداشت نہیں کر پائے۔ شاید یہ پہلا موقع تھا کہ وہ پی ٹی پریتمچند کی اس بربریت کو برداشت نہ کر پائے۔ بہت بے قرار ہو گئے تھے۔ - hwat ar yu duing, iz it da ve panish da styudnts af forth klas? stap it at vns۔
ہمیں تب انگریزی نہیں آتی تھی، کیونکہ اس وقت پانچویں جماعت سے انگریزی پڑھانی شروع کی جاتی تھی۔ پرنتو ہمارے اسکول کے ساتویں-آٹھویں جماعت کے لڑکوں نے بتایا تھا کہ شرما جی نے کہا تھا-کیا کرتے ہیں؟ کیا چوتھی جماعت کو سزا دینے کا یہ ڈھنگ ہے؟ اسے فوراً بند کرو۔
شرما جی غصے سے کانپتے برآمدے سے ہی اپنے دفتر میں چلے گئے تھے۔
پھر جب پریتمچند کئی دن اسکول نہیں آئے تو یہ بات سبھی ماسٹروں کی زبان پر تھی کہ ہیڈماسٹر شرما جی نے انہیں معطل ${ }^{13}$ کر کے اپنی طرف سے حکم لکھ کر، منظوری کے لیے ہماری ریاست کی دارالحکومت، نابھا بھیج دیا ہے۔ وہاں ہرجیلال نام کے ‘محکمہ تعلیم ${ }^{14}$ ’ کے ڈائریکٹر تھے جن سے ایسے حکم کی منظوری ضروری تھی۔
اس دن کے بعد یہ پتا ہوتے ہوئے بھی کہ پی ٹی پریتمچند کو جب تک نابھا سے ڈائریکٹر ‘بحال’ نہیں کریں گے تب تک وہ اسکول میں قدم نہیں رکھ سکتے، جب بھی فارسی کی گھنٹی بجتی تو ہماری چھاتی دھک-دھک کرتی پھٹنے کو آتی۔ پرنتو جب تک شرما جی خود یا ماسٹر نوہریا رام جی کمرے میں فارسی پڑھانے نہ آ جاتے، ہمارے چہرے مونجھائے رہتے۔
پھر کئی ہفتہ تک پی ٹی ماسٹر اسکول نہیں آئے۔ پتا چلا کہ بازار میں ایک دکان کے اوپر انہوں نے جو چھوٹی-چھوٹی کھڑکیوں والا چوبارہ کرایے پر لے رکھا تھا، وہیں آرام سے رہ رہے تھے۔ کچھ ساتویں-آٹھویں کے طلبا ہمیں بتایا کرتے کہ انہیں معطل ہونے کی رتی بھر بھی فکر نہیں تھی۔ پہلے کی طرح ہی آرام سے پنجرے میں رکھے دو طوطوں کو دن میں کئی بار، بھگو کر رکھے باداموں کی گریوں کا چھلکا اتار کر انہیں کھلاتے ان سے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ان کے وہ طوطے ہم نے بھی کئی بار دیکھے تھے۔ (ہم ان بڑے لڑکوں کے ساتھ ان کے چوبارے میں گئے تھے جو لڑکے پی ٹی صاحب کے حکم پر ان کے گھر کا کام کرنے جایا کرتے) پرنتو ہمارے لیے یہ کرشمہ ہی تھا کہ جو پریتمچند بلا مار-مار کر ہماری چمڑی تک ادھیڑ دیتے وہ اپنے طوطوں سے میٹھی-میٹھی باتیں کیسے کر لیتے تھے؟ کیا طوطوں کو ان کی دہکتی، بھوری آنکھوں سے خوف نہیں لگتا تھا۔
ہماری سمجھ میں ایسی باتیں تب نہیں آ پاتیں تھیں، بس ایک طرح انہیں الہی ہی مانتے تھے۔
بوجھ-سوال
1. کوئی بھی زبان آپسی معاملات میں رکاوٹ نہیں بنتی-پाठ کے کس حصے سے یہ ثابت ہوتا ہے؟
2. پی ٹی صاحب کی ‘شاباش’ فوج کے تمغوں سی کیوں لگتی تھی؟ واضح کیجیے۔
3. نئی جماعت میں جانے اور نئی کاپیوں اور پرانی کتابوں سے آتی خاص خوشبو سے مصنف کا بچپن والا دل کیوں اداس ہو اٹھتا تھا؟
4. ایکاؤٹ پریڈ کرتے وقت مصنف اپنے کو اہم ‘آدمی’ فوجی جوان کیوں سمجھنے لگتا تھا؟
5. ہیڈماسٹر شرما جی نے پی ٹی صاحب کو کیوں معطل کر دیا؟
6. مصنف کے مطابق انہیں اسکول خوشی سے بھاگے جانے کی جگہ نہ لگنے پر بھی کب اور کیوں انہیں اسکول جانا اچھا لگنے لگا؟
7. مصنف اپنے طالب علم زندگی میں اسکول سے چھٹیوں میں ملے کام کو پورا کرنے کے لیے کیا-کیا منصوبے بنایا کرتے تھے اور انہیں پورا نہ کر پانے کی صورت میں کس کی طرح ‘بہادر’ بننے کی تصور کیا کرتے تھے؟
8. پڑھ میں بیان کردہ واقعات کی بنیاد پر پی ٹی سر کی چار سلوک خصوصیات پر روش ڈالیے۔
9. طلبا کو انضباط میں رکھنے کے لیے پڑھ میں اپنائی گئی حکمت عملیوں اور موجودہ میں قبول شدہ اصولوں کے تعلق میں اپنے خیالات ظاہر کیجیے۔
10. بچپن کی یادیں دل کو گدگدانے والی ہوتی ہیں خاص طور پر اسکولی دنوں کی۔ اپنے اب تک کے اسکولی زندگی کی کھٹی-میٹھی یادوں کو لکھیے۔
11. اکثر والدین بچوں کو کھیل-کود میں زیادہ دلچسپی لینے پر روکتے ہیں اور وقت ضائع نہ کرنے کی نصیحت دیتے ہیں۔ بتائیے-
(ک) کھیل آپ کے لیے کیوں ضروری ہیں؟
(کھ) آپ کون سے ایسے اصول-قواعد کو اپنائیں گے جس سے والدین کو آپ کے کھیل پر اعتراض نہ ہو؟