باب 11 تیسری قسم کے صنعتکار شیلندر

15 min read

پرہلاد اگروال سال 1947 بھارت کی آزادی کے سال مدھیہ پردیش کے جبل پور شہر میں پیدا ہونے والے پرہلاد اگروال نے ہندی سے ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ انہیں کم عمری سے...

پرہلاد اگروال
سال 1947

<img src=“https://temp-public-img-folder.s3.amazonaws.com/sathee.prutor.images/sathee_image/cropped_2024_05_27_7b6c882dbafa1f03c9c9g-311_jpg_height_480_width_448_top_left_y_575_top_left_x_989.jpg"" width=“200px”>


بھارت کی آزادی کے سال مدھیہ پردیش کے جبل پور شہر میں پیدا ہونے والے پرہلاد اگروال نے ہندی سے ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ انہیں کم عمری سے ہی ہندی فلموں کی تاریخ اور فلم سازوں کی زندگی اور ان کے اداکاری کے بارے میں تفصیل سے جاننے اور اس پر بحث کرنے کا شوق رہا۔ ان دنوں ستنا کے شاسکئیہ سویام شاسی گریجویٹ کالج میں پروفیسر پرہلاد اگروال فلم میدان سے جڑے لوگوں اور فلموں پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور آگے بھی اسی میدان کو اپنے تحریر کا موضوع بنائے رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کی اہم تصانیف ہیں-ساتواں دہک، تاناشاہ، میں خوشبو، سپر اسٹار، راج کپور: آدھی حقیقت آدھا فسانہ، شاعر شیلندر: زندگی کی جیت میں یقین، پیاسا: چر اتپت گرو دت، اتھل امگ: سبھاش گھئی کی فلم کلا، او رے مانجھی: بمل رائے کا سنیما اور مہابازار کے مہانایک: اکیسویں صدی کا سنیما۔

پाठ داخلہ

سال کے کسی مہینے کا شاید ہی کوئی جمعہ ایسا گزرے جب کوئی نہ کوئی ہندی فلم سینما کی اسکرین پر نہ پہنچے۔ ان میں سے کچھ کامیاب رہتی ہیں تو کچھ ناکام۔ کچھ ناظرین کو کچھ عرصے تک یاد رہتی ہیں، کچھ کو وہ سینما ہال سے باہر نکلتے ہی بھول جاتے ہیں۔ لیکن جب کوئی فلم ساز کسی ادبی تخلیق کو پوری لگن اور ایمانداری سے اسکرین پر اتارتا ہے تو اس کی فلم نہ صرف یادگار بن جاتی ہے بلکہ لوگوں کا تفریح کرنے کے ساتھ ہی انہیں کوئی بہتر پیغام دینے میں بھی کامیاب رہتی ہے۔

ایک گیتکار کے طور پر کئی دہائیوں تک فلم میدان سے جڑے رہے شاعر اور گیتکار نے جب فنیشور ناتھ رینو کی امر تخلیق ‘تیسری قسم عرف مارے گئے گلفام’ کو سینما کی اسکرین پر اتارا تو وہ سنگ میل ثابت ہوئی۔ آج بھی اس کی شمار ہندی کی چند امر فلموں میں کی جاتی ہے۔ اس فلم نے نہ صرف اپنے گیت، موسیقی، کہانی کی بدولت شہرت پائی بلکہ اس میں اپنے زمانے کے سب سے بڑے شومین راج کپور نے اپنی فلمی زندگی کی سب سے بہترین ایکٹنگ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ فلم کی ہیروئن واہدہ رحمان نے بھی ویسی ہی اداکاری کر کے دکھائی جیسی ان سے امید تھی۔

اس معنی میں ایک یادگار فلم ہونے کے باوجود ‘تیسری قسم’ کو آج اس لیے بھی یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس فلم کی تیاری نے یہ بھی آشکار کر دیا کہ ہندی فلم جگت میں ایک سارثک اور مقصد پر فلم بنانا کتنا مشکل اور خطرناک کام ہے۔

تیسری قسم کے صنعتکار شیلندر

‘سنگم’ کی حیرت انگیز کامیابی نے راج کپور میں گہرا خود اعتماد بھر دیا اور اس نے ایک ساتھ چار فلموں کی تیاری کا اعلان کیا-‘میرا نام جوکر’، ‘اجنتا’، ‘میں اور میرا دوست’ اور ‘ستیام شیوم سندرم’۔ لیکن جب 1965 میں راج کپور نے ‘میرا نام جوکر’ کی تیاری شروع کی تو شاید اس نے بھی یہ تصور نہیں کیا ہوگا کہ اس فلم کا ایک ہی حصہ بنانے میں چھ سال کا وقت لگ جائے گا۔

ان چھ سالوں کے وقفے میں راج کپور کی اداکاری سے کئی فلمیں نمائش ہوئیں، جن میں 1966 میں نمائش ہونے والی شاعر شیلندر کی ‘تیسری قسم’ بھی شامل ہے۔ یہ وہ فلم ہے جس میں راج کپور نے اپنی زندگی کی سب سے بہترین اداکاری کی۔ یہی نہیں، ‘تیسری قسم’ وہ فلم ہے جس نے ہندی ادب کی ایک نہایت درد ناک تخلیق کو سیلولائیڈ پر پوری سارثکتا سے اتارا۔ ‘تیسری قسم’ فلم نہیں، سیلولائیڈ پر لکھی نظم تھی۔

‘تیسری قسم’ شیلندر کی زندگی کی پہلی اور آخری فلم ہے۔ ‘تیسری قسم’ کو ‘راشٹرپتی سون پدم’ ملا، بنگال فلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے سب سے بہترین فلم اور کئی دیگر انعامات سے نوازا گیا۔ ماسکو فلم فیسٹیول میں بھی یہ فلم انعام یافتہ ہوئی۔ اس کی فنکاری کی لمبی چوڑی تعریفیں ہوئیں۔ اس میں شیلندر کی حساسیت پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ انہوں نے ایسی فلم بنائی تھی جسے سچا شاعر دل ہی بنا سکتا تھا۔

شیلندر نے راج کپور کی جذبات کو الفاظ دیے ہیں۔ راج کپور نے اپنے انمول ساتھی کی فلم میں اتنی ہی تلملاہٹ کے ساتھ کام کیا، کسی معاوضے کی توقع کیے بغیر۔ شیلندر نے لکھا تھا کہ وہ راج کپور کے پاس ‘تیسری قسم’ کی کہانی سنانے پہنچے تو کہانی سن کر انہوں نے بڑے جوش کے ساتھ کام کرنا قبول کر لیا۔ لیکن فوراً سنجیدگی سے بولے-“میرا معاوضہ ایڈوانس دینا ہوگا۔” شیلندر کو ایسی امید نہیں تھی کہ راج کپور زندگی بھر کی دوستی کا یہ بدلہ دیں گے۔ شیلندر کا مردہ چہرہ دیکھ کر راج کپور نے مسکراتے ہوئے کہا، “نکالو ایک روپیہ، میرا معاوضہ! پورا ایڈوانس۔” شیلندر راج کپور کی اس یارانہ مستی سے واقف تو تھے، لیکن ایک فلم پروڈیوسر کے طور پر بڑے تجارتی سوجھ بوجھ والے بھی چکر کھا جاتے ہیں، پھر

شیلندر تو فلم پروڈیوسر بننے کے لیے سراسر نااہل تھے۔ راج کپور نے ایک اچھے اور سچے دوست کی حیثیت سے شیلندر کو فلم کی ناکامی کے خطرات سے آگاہ بھی کیا۔ لیکن وہ تو ایک آئیڈیلسٹ بھاوک شاعر تھا، جسے بے پناہ دولت اور یش تک کی اتنی خواہش نہیں تھی جتنی آتما تسلی کے سکھ کی آرزو تھی۔ ‘تیسری قسم’ کتنی ہی عظیم فلم کیوں نہ رہی ہو، لیکن یہ ایک دکھد سچ ہے کہ اسے نمائش کے لیے بمشکل ڈسٹری بیوٹر ملے۔ باوجود اس کے کہ ‘تیسری قسم’ میں راج کپور اور واہدہ رحمان جیسے نامور ستارے تھے، شنکر-جے کشن کا موسیقی تھا، جن کی مقبولیت ان دنوں ساتویں آسمان پر تھی اور اس کے گیت بھی فلم کی نمائش سے پہلے ہی نہایت مقبول ہو چکے تھے، لیکن اس فلم کو خریدنے والا کوئی نہیں تھا۔ دراصل اس فلم کی حساسیت کسی دو سے چار بنانے کے حساب جاننے والے کی سمجھ سے پرے تھی۔ اس میں رچی بسی کرونا ترازو پر تولی جا سکنے والی چیز نہیں تھی۔ اسی لیے بمشکل جب ‘تیسری قسم’ ریلیز ہوئی تو اس کا کوئی پرچار نہیں ہوا۔ فلم کب آئی، کب چلی گئی، معلوم ہی نہیں پڑا۔

ایسا نہیں ہے کہ شیلندر بیس سالوں تک فلم انڈسٹری میں رہتے ہوئے بھی وہاں کے طور طریقوں سے ناواقف تھے، لیکن ان میں الجھ کر وہ اپنی آدمہت نہیں کھو سکے تھے۔ ‘شری 420’ کا ایک مقبول گیت ہے-‘پیار ہوا، اقرار ہوا ہے، پیار سے پھر کیوں ڈرتا ہے دل۔’ اس کے انتڑے کی ایک سطر-‘راتیں دسوں دشاؤں سے کہیں گی اپنی کہانیاں’ پر موسیقار جے کشن نے اعتراض کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ناظر ‘چار دشائیں’ تو سمجھ سکتے ہیں-‘دس دشائیں’ نہیں۔ لیکن شیلندر تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ان کا پختہ عزم تھا کہ ناظرین کی رغبت کی آڑ میں ہمیں اوچھے پن کو ان پر نہیں تھونا چاہیے۔ فنکار کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ صارف کی رغبتوں کی پرکھ کرنے کی کوشش کرے۔ اور ان کا یقین غلط نہیں تھا۔ یہی نہیں، وہ بہت اچھے گیت بھی جنہوں نے انہوں نے لکھے نہایت مقبول ہوئے۔ شیلندر نے جھوٹے اشرافیہ کو کبھی نہیں اپنایا۔ ان کے گیت جذباتی تھے-دشوار نہیں۔ ‘میرا جوتا ہے جاپانی، یہ پتلون انگلستان، سر پہ لال ٹوپی روسی، پھر بھی دل ہے ہندوستانی’-یہ گیت شیلندر ہی لکھ سکتے تھے۔ پرسکند ندی کا بہاؤ اور سمندر کی گہرائی لیے ہوئے۔ یہی خاصیت ان کی زندگی کی تھی اور یہی انہوں نے اپنی فلم کے ذریعے بھی ثابت کیا تھا۔

‘تیسری قسم’ اگر ایک ہی نہیں تو چند ان فلموں میں سے ہے جنہوں نے ادب تخلیق کے ساتھ سو فیصد انصاف کیا ہو۔ شیلندر نے راج کپور جیسے اسٹار کو ‘ہیرامن’ بنا دیا تھا۔ ہیرامن پر راج کپور حاوی نہیں ہو سکا۔ اور چھینٹ کی سستی ساڑی میں لپٹی ‘ہیرابائی’ نے واہدہ رحمان کی مشہور بلندیوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ کجری ندی کے کنارے اکھڑ بیٹھا ہیرامن جب گیت گاتے ہوئے ہیرابائی سے پوچھتا ہے ‘من سمجھتی ہیں ن آپ؟’ تب ہیرابائی زبان سے نہیں، آنکھوں سے بولتی ہے۔ دنیا بھر کے الفاظ اس زبان کو اظہار نہیں دے سکتے۔ ایسی ہی باریکیوں سے معمور تھی-‘تیسری قسم’۔ اپنی مستی میں ڈوب کر جھومتے گاتے گاڑی والا-‘چلات مسافر موہ لیا رے پنجرے والی مونیا۔’ ٹپر گاڑی میں ہیرابائی کو جاتے ہوئے دیکھ کر ان کے پیچھے دوڑتے گاتے بچوں کا ہجوم-‘لالی لالی ڈولیا میں لالی رے دلہنیا’، ایک ناٹنکی کی بائی میں اپنائیت کھو لینے والا سادہ دل گاڑی والا! کمیوں کی زندگی جیتے لوگوں کے خوابیلے قہقہے۔

ہماری فلموں کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے، لوک عنصر کا فقدان۔ وہ زندگی سے دور ہوتی ہیں۔ اگر المناک حالات کا چترنک ہوتا ہے تو انہیں گلوریفائی کیا جاتا ہے۔ دکھ کا ایسا بھیانک روپ پیش ہوتا ہے جو ناظرین کا جذباتی استحصال کر سکے۔ اور ‘تیسری قسم’ کی یہ خاص بات تھی کہ وہ دکھ کو بھی سہج حالت میں، زندگی کے تناظر میں پیش کرتی ہے۔

میں نے شیلندر کو گیتکار نہیں، شاعر کہا ہے۔ وہ سنیما کی چکاچوند کے بیچ رہتے ہوئے یشا اور دولت کی لالچ سے کوسوں دور تھے۔ جو بات ان کی زندگی میں تھی وہی ان کے گیتوں میں بھی۔ ان کے گیتوں میں صرف کرونا نہیں، جدوجہد کا اشارہ بھی تھا اور وہ عمل بھی موجود تھا جس کے تحت اپنی منزل تک پہنچا جاتا ہے۔ المیہ آدمی کو شکست نہیں دیتا، اسے آگے بڑھنے کا پیغام دیتا ہے۔

شیلندر نے ‘تیسری قسم’ کو اپنی جذباتی کا سب سے بہترین حقیقت فراہم کیا۔ مکیش کی آواز میں شیلندر کا یہ گیت تو لاثانی بن گیا ہے-

سجنوا بیر ہو گئے ہمار چٹھیا ہو تو ہر کوئی بانچے بھاگ ن بانچے کوی…

اداکاری کے نقطہ نظر سے ‘تیسری قسم’ راج کپور کی زندگی کی سب سے حسین فلم ہے۔ راج کپور جنہیں نقاد اور فن ماہر آنکھوں سے بات کرنے والا فنکار مانتے ہیں، ‘تیسری قسم’ میں معصومیت کے عروج کو چھوتے ہیں۔ اداکار راج کپور جتنی طاقت کے ساتھ ‘تیسری قسم’ میں موجود ہیں، اتنا ‘جاگتے رہو’ میں بھی نہیں۔ ‘جاگتے رہو’ میں راج کپور کی اداکاری کو بہت سراہا گیا تھا، لیکن ‘تیسری قسم’ وہ فلم ہے جس میں راج کپور اداکاری نہیں کرتا۔ وہ ہیرامن کے ساتھ یک جان ہو گیا ہے۔ خالص دیہاتی بھچ گاڑی والا جو صرف دل کی زبان سمجھتا ہے، دماغ کی نہیں۔ جس کے لیے محبت کے سوا کسی دوسری چیز کا کوئی مطلب نہیں۔ بہت بڑی بات یہ ہے کہ ‘تیسری قسم’ راج کپور کی اداکاری زندگی کا وہ مقام ہے، جب وہ ایشیا کے سب سے بڑے شومین کے طور پر قائم ہو چکے تھے۔ ان کا اپنا شخصیت ایک کہاوت بن چکی تھی۔ لیکن ‘تیسری قسم’ میں وہ عظیم الشان شخصیت پوری طرح ہیرامن کی روح میں اتر گئی ہے۔ وہ کہیں ہیرامن کی اداکاری نہیں کرتا، بلکہ خود ہیرامن میں ڈھل گیا ہے۔ ہیرابائی کی فینو گلاس باتوں پر ریجھتا ہوا، اس کی ‘منوا نٹوا’ جیسی بھولی شکل پر نچھاور ہوتا ہوا اور ہیرابائی کی ذرا سی نظر انداز پر اپنے وجود سے جھجھکتا ہوا سچا ہیرامن بن گیا ہے۔

‘تیسری قسم’ کی اسکرپٹ اصل کہانی کے مصنف فنیشور ناتھ رینو نے خود تیار کی تھی۔ کہانی کا ریشہ ریشہ، اس کی چھوٹی سے چھوٹی باریکیاں فلم میں پوری طرح اتر آئیں۔

سوال مشق

زبانی

درج ذیل سوالوں کے جواب ایک دو سطروں میں دیجیے-

1. ‘تیسری قسم’ فلم کو کن کن انعامات سے نوازا گیا ہے؟

2. شیلندر نے کتنی فلمیں بنائیں؟

3. راج کپور کی ہدایت کردہ چند فلموں کے نام بتائیے۔

4. ‘تیسری قسم’ فلم کے ہیرو اور ہیروئن کے نام بتائیے اور فلم میں انہوں نے کن کرداروں کی اداکاری کی ہے؟

5. فلم ‘تیسری قسم’ کی پروڈکشن کس نے کی تھی؟

6. راج کپور نے ‘میرا نام جوکر’ کی تیاری کے وقت کس بات کا تصور بھی نہیں کیا تھا؟

7. راج کپور کی کس بات پر شیلندر کا چہرہ مردہ ہو گیا؟

8. فلم نقاد راج کپور کو کس طرح کا فنکار مانتے تھے؟

تحریری

(الف) درج ذیل سوالوں کے جواب (25-30 الفاظ میں) لکھیے-

1. ‘تیسری قسم’ فلم کو ‘سیلولائیڈ پر لکھی نظم’ کیوں کہا گیا ہے؟

2. ‘تیسری قسم’ فلم کو خریدار کیوں نہیں مل رہے تھے؟

3. شیلندر کے مطابق فنکار کا فرض کیا ہے؟

4. فلموں میں المناک حالات کا چترنک گلوریفائی کیوں کر دیا جاتا ہے؟

5. ‘شیلندر نے راج کپور کی جذبات کو الفاظ دیے ہیں’–اس بیان سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ وضاحت کیجیے۔

6. مصنف نے راج کپور کو ایشیا کا سب سے بڑا شومین کہا ہے۔ شومین سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

7. فلم ‘شری 420’ کے گیت ‘راتوں دسوں دشاؤں سے کہیں گی اپنی کہانیاں’ پر موسیقار جے کشن نے اعتراض کیوں کیا؟

(ب) درج ذیل سوالوں کے جواب (50-60 الفاظ میں) لکھیے-

1. راج کپور کی طرف سے فلم کی ناکامی کے خطرات سے آگاہ کرنے پر بھی شیلندر نے یہ فلم کیوں بنائی؟

2. ‘تیسری قسم’ میں راج کپور کا عظیم الشان شخصیت کس طرح ہیرامن کی روح میں اتر گیا ہے؟ وضاحت کیجیے۔

3. مصنف نے ایسا کیوں لکھا ہے کہ ‘تیسری قسم’ نے ادب تخلیق کے ساتھ سو فیصد انصاف کیا ہے؟

4. شیلندر کے گیتوں کی کیا خاصیاں ہیں؟ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

5. فلم پروڈیوسر کے طور پر شیلندر کی خصوصیات پر روشنی ڈالیے۔

6. شیلندر کے ذاتی زندگی کی چھاپ ان کی فلم میں جھلکتی ہے-کیسے؟ وضاحت کیجیے۔

7. مصنف کے اس بیان سے کہ ‘تیسری قسم’ فلم کوئی سچا شاعر دل ہی بنا سکتا تھا، آپ کہاں تک متفق ہیں؟ وضاحت کیجیے۔

(ج) درج ذیل کے مفہوم کو واضح کیجیے-

1. …وہ تو ایک آئیڈیلسٹ بھاوک شاعر تھا، جسے بے پناہ دولت اور یش تک کی اتنی خواہش نہیں تھی جتنی آتما تسلی کے سکھ کی آرزو تھی۔

2. ان کا یہ پختہ عزم تھا کہ ناظرین کی رغبت کی آڑ میں ہمیں اوچھے پن کو ان پر نہیں تھونا چاہیے۔ فنکار کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ صارف کی رغبتوں کی پرکھ کرنے کی کوشش کرے۔

3. المیہ آدمی کو شکست نہیں دیتا، اسے آگے بڑھنے کا پیغام دیتا ہے۔

4. دراصل اس فلم کی حساسیت کسی دو سے چار بنانے والے کی سمجھ سے پرے ہے۔

5. ان کے گیت جذباتی تھے-دشوار نہیں۔

زبان مطالعہ

1. پڑھ میں آئے ‘سے’ کے مختلف استعمالوں سے جملہ کی ساخت کو سمجھیے۔

(الف) راج کپور نے ایک اچھے اور سچے دوست کی حیثیت سے شیلندر کو فلم کی ناکامی کے خطروں سے آگاہ بھی کیا۔

(ب) راتیں دسوں دشاؤں سے کہیں گی اپنی کہانیاں۔

(ج) فلم انڈسٹری میں رہتے ہوئے بھی وہاں کے طور طریقوں سے ناواقف تھے۔

(د) دراصل اس فلم کی حساسیت کسی دو سے چار بنانے کے حساب جاننے والے کی سمجھ سے پرے تھی۔

(ہ) شیلندر راج کپور کی اس یارانہ دوستی سے واقف تو تھے۔

2. اس پڑھ میں آئے درج ذیل جملوں کی ساخت پر توجع دیجیے-

(الف) ‘تیسری قسم’ فلم نہیں، سیلولائیڈ پر لکھی نظم تھی۔

(ب) انہوں نے ایسی فلم بنائی تھی جسے سچا شاعر دل ہی بنا سکتا تھا۔

(ج) فلم کب آئی، کب چلی گئی، معلوم ہی نہیں پڑا۔

(د) خالص دیہاتی بھچ گاڑی والا جو صرف دل کی زبان سمجھتا ہے، دماغ کی نہیں۔

3. پڑھ میں آئے درج ذیل محاوروں سے جملہ بنائیے-

چہرہ مردہ ہونا، چکر کھا جانا، دو سے چار بنانا، آنکھوں سے بولنا

4. درج ذیل الفاظ کے ہندی مترادف دیجیے-

(الف) شدت _____________ (ہ) ناواقف _____________

(ب) یارانہ _____________ (و) یقین _____________

(ج) بمشکل _____________ (ز) حاوی _____________

(د) خالص _____________ (ح) ریشہ _____________

5. درج ذیل کا سندھی وچھید کیجیے-

(الف) چترنک $\quad$ $-$ $\quad$ _____________ $+$ _____________

(ب) سروتکرسٹ $\quad$ $-$ $\quad$ _____________ $+$ _____________

(ج) چرموتکرش $\quad$ $-$ $\quad$ _____________ $+$ _____________

(د) روپانترن $\quad$ $-$ $\quad$ _____________ $+$ _____________

(ہ) گھنانند $\quad$ $-$ $\quad$ _____________ $+$ _____________

6. درج ذیل کا سماس وگریہ کیجیے اور سماس کا نام بھی لکھیے-

(الف) کلا-مرمجن __________________

(ب) لوکپریہ __________________

(ج) راشٹرپتی __________________

صلاحیت وسعت

1. فنیشور ناتھ رینو کی کس کہانی پر ‘تیسری قسم’ فلم مبنی ہے، معلومات حاصل کیجیے اور اصل تخلیق پڑھیے۔

2. اخبارات میں فلموں کی تنقید دی جاتی ہے۔ کسی تین فلموں کی تنقید پڑھیے اور ‘تیسری قسم’ فلم کو دیکھ کر اس فلم کی تنقید خود لکھنے کی کوشش کیجیے۔

پروجیکٹ کام

1. فلموں کے حوالے سے آپ نے اکثر یہ سنا ہوگا-‘جو بات پہلے کی فلموں میں تھی، وہ اب کہاں۔ موجودہ دور کی فلموں اور پہلے کی فلموں میں کیا مماثلت اور فرق ہے؟ کلاس میں بحث کیجیے۔

2. ‘تیسری قسم’ جیسی اور بھی فلمیں ہیں جو کسی نہ کسی زبان کی ادبی تخلیق پر بنی ہیں۔ ایسی فلموں کی فہرست درج ذیل فارم کے مطابق تیار کریں۔

سری نمبرفلم کا نامادبی تخلیقزبانتخلیق کار
1.دیوداسدیوداسبنگالیشرتچندر
2.____________________________
3.____________________________
4.____________________________

3. لوک گیت ہمیں اپنی ثقافت سے جوڑتے ہیں۔ ‘تیسری قسم’ فلم میں لوک گیتوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ آپ بھی اپنے علاقے کے مقبول دو تین لوک گیتوں کو جمع کر کے پروجیکٹ کاپی پر لکھیے۔

لفظ معنی اور نوٹس

وقفہ- کے بعد
اداکار- اداکاری کیا گیا
سروتکرسٹ- سب سے اچھا
سیلولائیڈ- کیمرے کی ریل میں اتار چتر پر پیش کرنا
سارثکتا- کامیابی کے ساتھ
فنکاری- فن سے پرپورن
حساسیت- جذباتی
شدت- تیزی
انمول- پرم / انتہائی
تلملاہٹ- تللینتا
معاوضہ- محنتانہ
یارانہ مستی- دوستانہ انداز
آگاہ- ہوشیار
آتما تسلی- اپنی تسلی
بمشکل- بہت مشکل سے
ڈسٹری بیوٹر- پھیلانے والے لوگ
نامور- مشہور
ناواقف- انجان
اقرار- رضامندی
عزم- خواہش
اوچھا پن- سطحی / نیچا
اشرافیہ- پرشکست
جذباتی- جذبات کے بھرا ہوا
دشوار- مشکل
اکھڑ- گھٹنے موڑ کر پاؤں کے تلووں کے سہارے بیٹھنا
باریکی- باریکی
معمور- چلایا / حرکت میں
لالچی- خواہش مند
ٹپر گاڑی- نیم گولاکار چھپر والی بیل گاڑی
ہجوم- ہجوم
پرتیروپ- سایہ
روپانترن- کسی ایک روپ سے دوسرے روپ میں تبدیل کرنا
لوک عنصر- لوک متعلقہ
المناک- دکھد
گلوریفائی- گنگنان / مہیمارمندت کرنا
بھیانک- خوفناک
زندگی کے متعلق- زندگی کے متعلق
دولت کی لالچ- دولت کی انتہائی چاہ
عمل- طریقہ
بانچے- پڑھنا
حصہ- قسمت
بھرمایے- دھوکہ ہونا / جھوٹا یقین
نقاد- تنقید کرنے والا
فن ماہر- فن کی پرکھ کرنے والا
چرم اوتکرش- اونچائی کے چوٹی پر
خالص- شودھ
بھچ- نرا / بالکل
کہاوت- کہاوت